تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 105

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۰۵ کہ وہ مسیح میں ہوں اور میں ہی داؤد کے تخت کو دوبارہ قائم کروں گا۔ سو یہودی اس کلمہ سے اوائل حال میں بہت خوش ہوئے اور صد با عوام الناس بادشاہت کی امید سے آپ کے معتقد ہو گئے اور بڑے بڑے تاجر اور رئیس بیعت میں داخل ہوئے لیکن کچھ تھوڑے دنوں کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نے ظاہر کر دیا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں ہے اور میری ﴿۱۲﴾ بادشاہت آسمان کی ہے۔ تب اُن کی وہ سب اُمیدیں خاک میں مل گئیں اور ان کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص دوبارہ تخت داؤد کو قائم نہیں کرے گا بلکہ وہ کوئی اور ہوگا۔ پس اسی دن سے بغض اور کینہ ترقی ہونا شروع ہوا اور ایک جماعت کثیر مرتد ہو گئی پس ایک تو یہی وجہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھی کہ یہ شخص نبیوں کی پیشگوئی کے موافق بادشاہ ہو کر نہیں آیا۔ پھر کتابوں پر غور کرنے سے ایک اور وجہ یہ بھی پیدا ہوئی کہ ملا کی نبی کی کتاب میں لکھا تھا کہ مسیح بادشاہ جس کی یہودیوں کو انتظار تھی وہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے چنانچہ انہوں نے یہ عذر حضرت مسیح کے سامنے پیش بھی کیا لیکن آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس جگہ ایلیا سے مراد مثیل ایلیا ہے یعنی ی۔ افسوس کہ اگر جیسا کہ اُن کی نسبت احیاء موتی کا گمان باطل کیا جاتا ہے وہ حضرت ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا دیتے تو اس قدر جھگڑا نہ پڑتا اور نص کے ظاہری الفاظ کے رو سے حجت پوری ہو جاتی ۔ غرض یہودی اُن کے بادشاہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے اور ملا کی نبی کی کتاب کے رو سے یہ دوسرا شک پیدا ہوا پھر کیا تھا سب کے سب تکفیر اور گالیوں پر آگئے اور یہودیوں کے علماء نے اُن کے لئے ایک کفر کا فتویٰ طیار کیا اور ملک کے تمام علماء کرام اور صوفیہ عظام نے اس فتوے پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگا دیں مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے جو تھوڑے ہی آدمی تھے حضرت مسیح کے ساتھ رہ گئے ۔ اُن میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو کچھ رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کے نصوص صریحہ سے اس شخص کو کا فر ٹھہرانا چاہیے تا عوام بھی یکدفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاویں۔ چنانچہ