تحفۂ گولڑویہ — Page 58
روحانی خزائن جلد۱۷ ۵۸ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ہیں۔ حافظ صاحب کا یہ قول ایسا ہے کہ کوئی مومن اس کی برداشت نہیں کرے گا مگر وہی جس کے دل پر خدا کی لعنت ہو۔ کیا خدا کا کلام جھوٹا ہے؟ و من اظلم من الذي كذب كتاب الله الا ان قول الله حق والا ان لعنة الله على المكذبين، بی خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے منجملہ اور نشانوں کے یہ نشان بھی میرے لئے دکھلایا کہ میرے وحی اللہ پانے کے دن سید نا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دنوں سے برابر کئے جب سے کہ دنیا شروع ہوئی ایک انسان بھی بطور نظیر نہیں ملے گا جس نے ہمارے سید وسردار نبی صلے اللہ علیہ وسلم کی طرح تیئیس برس پائے ہوں اور پھر وحی اللہ کے دعوے میں جھوٹا ہو یہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص عزت دی ہے جو اُن کے زمانہ نبوت کو بھی سچائی کا معیار ٹھہرا دیا ہے۔ پس اے مومنو! اگر تم ایک ایسے شخص کو پاؤ جو مامورمن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعوے پر سیکیس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعویٰ کرتا رہا اور وہ دعوئی اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف تھے کیونکہ ممکن نہیں کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اللہ پانے کی مدت اُس شخص کو مل سکے جس شخص کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ ہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ در حقیقت اس شخص نے وحی اللہ پانے کے دعوے میں تیس برس کی مدت حاصل کر لی اور اس مدت میں اخیر یک کبھی خاموش نہیں رہا اور نہ اس دعوے سے دست بردار ہوا۔ سو اس اُمت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیئیس برس کی مدت دی گئی اور تئیس برس تک برابر یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔ اس کے ثبوت کے لئے اول میں براہین احمدیہ کے وہ مکالمات الہیہ لکھتا ہوں جو اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوئے اور سات آٹھ برس پہلے زبانی طور پر شائع ہوتے رہے جن کی گواہی خود براہین احمدیہ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد چند وہ مکالماتِ الہیہ لکھوں گا جو براہین احمدیہ کے بعد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” سے ہے “ ہونا چاہیے۔(ناشر)