تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 769

تریاق القلوب — Page 521

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۲۱ دین و دنیا میں فضل کرے ) رومی سلطنت سے نہایت درجہ مشابہ ہے۔ اور ضرور تھا کہ دوسرا صیح بھی تلوار کے ساتھ نہ آتا اور اس کی بادشاہت صرف آسمان میں ہوتی سوایسا ہی ظہور میں آیا اور خدا نے مجھے تلوار کے ساتھ نہیں بھیجا اور نہ مجھے جہاد کا حکم دیا بلکہ مجھے خبر دی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا اور ایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔ یہ خدا کا ارادہ ہے گولوگ تعجب کی راہ سے دیکھیں۔ غرض میں اس لئے ظاہر نہیں ہوا کہ جنگ و جدل کا میدان گرم کروں بلکہ اس لئے ظاہر ہوا ہوں کہ پہلے مسیح کی طرح صلح اور آشتی کے دروازے کھول دوں ۔ اگر صلح کاری کی ☆ بنیا د درمیان نہ ہو تو پھر ہمارا سارا سلسلہ فضول ہے اور اس پر ایمان لانا بھی فضول ۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلا مسیح بھی اُس وقت آیا تھا جب یہود میں خانہ جنگیاں کثرت سے پھیل گئی تھیں ۔ اور اُن کے گھر ظلم اور تعدی سے بھر گئے تھے اور سخت دلی اُن کی عادت ہو گئی تھی اور سرحدی افغانوں کی طرح وہ لوگ بھی ہلے پہلے مسیح کو جو خدا بنایا گیا یہ کوئی صحیح اور واقعی امر نہیں تھا تا دوسرے مسیح میں اس کی مشابہت تلاش کی جائے بلکہ انسانی غلطیوں میں سے یہ بھی ایک غلطی تھی اور اصل فلاسفی اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کوئی نبی نبیوں میں سے خدا کا پیارا نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی ولی ولیوں میں سے اُس کا محبوب ٹھہر سکتا ہے جب تک کہ ایک مرتبہ موت کا خوف یا موت کے مشابہ اس پر ایک واقعہ وارد نہ ہوئے۔ اور اسی پر سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔ جب ابراہیم آگ میں ڈالا گیا تو کیا یہ نظارہ وصلیب کے واقعہ سے کچھ کم تھا اور جب اس کو حکم ہوا کہ تو اپنے پیارے فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر۔ تو کیا یہ واقعہ ابراہیم کے لئے اور اس کے اس فرزند کے لئے جس پر چھری چلائی گئی سولی کی دہشت سے کچھ کم درجہ پر تھا ؟ اور یعقوب کے خوف کا وہ نظارہ جبکہ اس کو سنایا گیا کہ تیرا پیارا فرزند یوسف بھیڑیے کا لقمہ ہو گیا اور اس کے