تریاق القلوب — Page 518
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۱۸ تریاق القلوب فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لئے لڑائیاں کی جائیں یا دین کے بغض اور دشمنی کی وجہ سے کسی کو قتل کیا جائے یا کسی اور نوع کی ایذا دی جائے یا کسی انسانی ہمدردی کا حق بوجہ کسی اجنبیت مذہب کے ترک کیا جائے یا کسی قسم کی بے رحمی اور تکبر اور لا پروائی دکھلائی جائے بلکہ جو شخص عام مسلمانوں میں سے ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اُس کا پہلا فرض یہی ہے کہ جیسا کہ وہ قرآن شریف کی سورۃ فاتحہ میں پنج وقت اپنی نماز میں یہ اقرار کرتا ہے کہ خدا رب العالمین ہے اور خدا رحمن ہے اور خدا رحیم ہے اور خدا ٹھیک ٹھیک انصاف کرنے والا ہے ۔ یہی چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے۔ ورنہ وہ اس دعا میں کہ اسی سورۃ میں پنج وقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اے ان چار صفتوں والے اللہ میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تو ہی مجھے پسند آیا ہے سراسر جھوٹا ہے۔ کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بننا اور ادنیٰ سے ادنیٰ جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کا دعوی کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کرلے تا اپنے محبت کے رنگ میں آجائے۔ ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جس کو یہ دعوی ہے کہ میں خدا کے نقش قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ خُلق بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ ا الفاتحة : ۵