تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 769

تریاق القلوب — Page 502

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۰۲ تریاق القلوب اگر چہ انسانوں کے لئے بادشاہوں اور سلاطین وقت سے بھی خطاب ملتے ہیں مگر وہ صرف ایک لفظی خطاب ہوتے ہیں جو بادشاہوں کی مہربانی اور کرم اور شفقت کی وجہ سے یا اور اسباب سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں اور بادشاہ اس کے ذمہ وار نہیں ہوتے کہ جو خطاب اُنہوں نے دیا ہے اس کے مفہوم کے موافق وہ شخص اپنے تئیں ہمیشہ رکھے جس کو ایسا خطاب دیا گیا ہے۔ مثلاً کسی بادشاہ نے کسی کو شیر بہادر کا خطاب دیا تو وہ بادشاہ اس بات کا متکفل نہیں ہو سکتا کہ ایسا شخص ہمیشہ اپنی بہادری دکھلاتا رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ ایسا شخص ضعف قلب کی وجہ سے ایک چوہے کی تیز رفتاری سے بھی کانپ اُٹھتا ہو چہ جائیکہ وہ کسی میدان میں شیر کی طرح بہادری دکھلاوے لیکن وہ شخص جس کو خدا تعالی سے شیر بہادر کا خطاب ملے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ در حقیقت بہادر ہی ہو کیونکہ خدا انسان نہیں ہے کہ جھوٹ بولے یا دھوکہ کھاوے یا کسی پولیٹیکل مصلحت سے ایسا خطاب دے دے۔ جس کی نسبت وہ اپنے دل میں جانتا ہے کہ دراصل وہ شخص اس خطاب کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات محقق امر ہے کہ فخر کے لائق وہی خطاب ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور وہ خطاب دو قسم کا ہے۔ اوّل وہ جو وحی اور الہام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک نبیوں میں سے کسی کو صفی اللہ کا لقب دیا اور کسی کو کلیم اللہ کا اور کسی کو روح اللہ کا اور کسی کو مصطفے اور حبیب اللہ کا ۔ ان تمام نبیوں پر خدا تعالیٰ کا سلام اور رحمتیں ہوں اور دوسری قسم خطاب کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض نشانوں اور تائیدات کے ذریعہ سے بعض اپنے مقبولین کی اس قدر محبت لوگوں کے دلوں میں ایک دفعہ ڈال دیتا ہے کہ یا تو اُن کو جھوٹا اور کافر اور مفتری کہا جاتا ہے اور طرح طرح کی نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں اور ہر ایک بد عادت اور عیب اُن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور یا ایسا ظہور میں آتا ہے کہ ان کی تائید میں کوئی ایسا پاک نشان ظاہر ہو جاتا ہے جس کی