تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 769

تریاق القلوب — Page 499

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۹۹ تریاق القلوب کشمیر جنت نظیر میں اُن کو پہنچا دیا۔ سو انہوں نے سچائی کے لئے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح اُس پر چڑھ گئے جیسا کہ ایک بہادر سوار خوش عنان گھوڑے پر چڑھتا ہے سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے حضرت مسیح کو صلیب سے بچا لیا اور ان کی تمام رات کی دعا جو باغ میں کی گئی تھی قبول کر کے ان کو صلیب اور صلیب کے نتیجوں سے نجات دی ایسا ہی مجھے بھی بچائے گا اور حضرت مسیح صلیب سے نجات پا کر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے اور جیسا کہ اُس جگہ شہزادہ نبی کا چبوترہ اب تک گواہی دے رہا ہے وہ ایک مدت تک کو ہ نعمان میں رہے اور پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے آخر کشمیر میں گئے اور کوہ سلیمان پر ایک مدت تک عبادت کرتے رہے اور سکھوں کے زمانہ تک اُن کی یادگار کا کوہ سلیمان پر کتبہ موجود تھا آخر سرینگر میں ایک سو چھپیس برس کی عمر میں وفات پائی اور خان یار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے ۔ غرض جیسا کہ اس نبی نے سچائی کے لئے صلیب کو قبول کیا ایسا ہی میں بھی قبول کرتا ہوں۔ اگر اس جلسہ کے بعد جس کی گورنمنٹ محسنہ کو ترغیب دیتا ہوں ایک سال کے اندر میرے نشان تمام دنیا پر غالب نہ ہوں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں ۔ میں راضی ہوں کہ اس جرم کی سزا میں سولی دیا جاؤں اور میری ہڈیاں توڑی جائیں لیکن وہ خدا جو آسمان پر ہے جو دل کے خیالات کو جانتا ہے جس کے الہام سے میں نے اس عریضہ کو لکھا ہے وہ میرے ساتھ ہوگا اور میرے ساتھ ہے وہ مجھے اس گورنمنٹ عالیہ اور قوموں کے سامنے شرمندہ نہیں کرے گا۔ اُسی کی روح ہے جو میرے اندر بولتی ہے۔ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ اُس کی طرف سے یہ پیغام پہنچا رہا ہوں تا سب کچھ جو اتمام حجت کے لئے چاہیے