تریاق القلوب — Page 489
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۸۹ تریاق القلوب ☆ ہوں گے کہ اس گورنمنٹ کے سچے خیر خواہ اور دلی جان نثار ہو جائیں اور جہاد اور خونی مہدی کے انتظار وغیرہ بیہودہ خیالات سے جو قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتے دست بردار ہو جائیں اور اگر وہ اس غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے تو کم سے کم یہ ان کا فرض ہے کہ اس گورنمنٹ محسنہ کے ناشکر گزار نہ بنیں اور نمک حرامی سے خدا کے گنہگار نہ ٹھہریں کیونکہ یہ گورنمنٹ ہمارے مال اور خون اور عزت کی محافظ ہے اور اس کے مبارک قدم سے ہم جلتے ہوئے تنور میں سے نکالے گئے ہیں ۔ یہ کتابیں ہیں جو میں نے اس ملک اور عرب اور شام اور فارس اور مصر وغیرہ ممالک میں شائع کی ہیں چنانچہ شام کے ملک کے بعض عیسائی فاضلوں نے بھی میری کتابوں کے شائع ہونے کی گواہی دی ہے اور میری بعض کتابوں کا ذکر کیا ہے ۔ اب میں اپنی گورنمنٹ محسنہ کی خدمت میں جرات سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ بست سالہ میری خدمت ہے جس کی نظیر برٹش انڈیا میں ایک بھی اسلامی خاندان پیش نہیں کر سکتا ۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ اس قدر لمبے زمانہ تک کہ جو بیس برس کا زمانہ ہے ایک مسلسل طور پر تعلیم مذکور بالا پرز ر بالا پر زور دیتے جانا کسی منافق اور خود غرض کا کام نہیں ہے بلکہ ۔ لہ ایسے شخص کا کام ہے جس کے دل میں اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی ہے۔ ہاں میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا خريطفور جباره نام ایک دمشق کا رہنے والا فاضل عیسائی اپنی کتاب خلاصۃ الادیان کے صفحہ چوالیس میں میری کتاب حمامۃ البشری کا ذکر کرتا ہے اور حمامۃ البشری میں سے چھ سطر میں بطور نقل کے لکھتا ہے اور میری نسبت لکھتا ہے کہ یہ کتاب ایک ہندی فاضل کی ہے جو تمام ملک ہند میں مشہور ہے دیکھو خلاصة الاديان و زبدة الاديان صفحه ۲۴ چودھویں سطر سے اکیسویں سطر تک ۔ منہ