تریاق القلوب — Page 488
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۸۸ تریاق القلوب کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا ہے اور اپنی چٹھیوں سے گواہی دی ہے کہ وہ خاندان ابتدائی انگریزی عملداری سے آج تک خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ میں برابر سرگرم رہا ہے۔ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضی اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیر خواہ اور دلی جان نثار تھے کہ وہ تمام حکام جو اُن کے وقت میں اس ضلع میں آئے سب کے سب اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے میرے والد موصوف کو ضرورت کے وقتوں میں گورنمنٹ کی خدمت کرنے میں کیسا پایا اور اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے ۱۸۵۷ ء کے مفسدہ کے وقت اپنی تھوڑی سی حیثیت کے وب ساتھ پچاس گھوڑے مع پچاس جوانوں کے اس محسن گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے اور ہر وقت امداد اور خدمت کے لئے کمر بستہ رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر گئے ۔ والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہر دلعزیز رئیس تھے جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور وہ خاندان مغلیہ میں سے ایک تباہ شدہ ریاست کے بقیہ تھے جنہوں نے بہت سی مصیبتوں کے بعد گورنمنٹ انگریزی کے عہد میں آرام پایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دل سے اس گورنمنٹ سے پیار کرتے تھے اور اس گورنمنٹ کی خیر خواہی ایک میخ فولادی کی طرح اُن کے دل میں دھنس گئی تھی اُن کی وفات کے بعد مجھے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بالکل دنیا سے الگ کر کے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے اُس کے فضل سے آسمانی مرتبت اور عزت کو اپنے لئے پسند کر لیا لیکن میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس گورنمنٹ محسنہ انگریزی کی خیر خواہی اور ہمدردی میں مجھے زیادتی ہے یا میرے والد مرحوم کو ۔ بیس برس کی مدت سے میں اپنے دلی جوش سے ایسی کتابیں زبان فارسی اور عربی اور اردو اور انگریزی میں شائع کر رہا ہوں جن میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے جس کے ترک سے وہ خدا تعالیٰ کے گنہگار