تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 769

تریاق القلوب — Page 484

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۸۴ تریاق القلوب امثال بیان کر کے ہمارے ذہن نشین کر دیا ہے کہ وضع عالم دوری ہے اور نیکیوں اور بدوں کی جماعتیں ہمیشہ بروزی طور پر دنیا میں آتی رہتی ہیں وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے ۔ خدا نے دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سکھلا کر اشارہ فرما دیا کہ وہ بروزی طور پر اس اُمت میں بھی آنے والے ہیں تا بروزی طور پر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اس اُمت میں بروزی طور پر آنے والا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ تم نمازوں میں سورۃ فاتحہ کو ضروری طور پر پڑھو یہ سکھلاتا ہے کہ مسیح موعود کا ضروری طور پر آنا مقد رہے۔ ایسا ہی قرآن شریف میں اس اُمت کے اشرار کو یہود سے نسبت دی گئی اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ ایسے شخص کو جو مریمی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اُس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جبکہ مثالی مریم نے بھی تقوی اختیار کیا ۔ تو ہم نے اپنی طرف سے روح پھونک دی اس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمہ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورۃ تحریم اور سورۃ فاتحہ اور سورة النور اور آيت كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ بھی فرمایا۔ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ ہے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ایک انسان خدا کی اولیت کا مظہر تھا اور ایک انسان خدا کی آخریت کا مظہر ہو گا ۔ اور لازم تھا کہ دونوں انسان ایک صفت میں بر عایت خصوصیات متحد ہوں پس جبکہ آدم نر اور مادہ پیدا کیا گیا اور ایسا ہی شیث کو بھی تو چاہیے تھا کہ آخری انسان بھی نر اور مادہ کی شکل پر پیدا ہو ۔ اس لئے قرآن کے حکم کے رو سے وہ وعدہ کا خلیفہ الفاتحة : ۲۷ ال عمران : ااا الحديد : ۴