تریاق القلوب — Page 474
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۷۴ تریاق القلوب سمجھ چکے۔ کوئی نہ کہتا تھا کہ یہ بچے گا لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے بوڑھے باپ کی مضطر بانہ دعا ئیں خدا نے سن لیں اور محض اُس کے فضل سے صحیح سلامت بیچ نکلا ۔ اگر چہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے ۔ یہ حوادث جانکاہ تو ایک طرف اُدھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔ آبروریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا۔ غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا ۔ اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ عاجز راقم کس قدر بلیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا اور یہ سب انہی آفات و مصائب کا ظہور ہوا جس کی حضور نے پہلے سے ہی مجمل طور پر خبر کر دی تھی ۔ اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے از راہ نوازش تعزیت کے طور پر ایک تسلی دہندہ چٹھی بھیجی وہ بھی ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی جو پوری ہوئی اور ہو رہی ہے ۔ لکھا تھا کہ ” واقع میں آپ کو سخت ابتلا پیش آیا۔ یہ سنت اللہ ہے تا کہ وہ اپنے مستقیم الحال بندوں کی استقامت لوگوں پر ظاہر کرے اور تا کہ صبر کرنے سے بڑے بڑے اجر بخشے ۔ خدا تعالیٰ ان تمام مصیبتوں سے مخلصی عنایت کر دے گا۔ دشمن ذلیل و خوار ہوں گے جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کی ڈوبتی کشتی کو تھام لیا ایسا ہی اس جگہ ہو گا۔ اُن کی بددعائیں آخر انہی پر پڑیں گی۔ سو بارے الحمد للہ کہ حضور کی دعا سے ایسا ہی ہوا ۔ عاجز ہر حال استقامت وصبر میں بڑھتا گیا ۔ باوجو د بشریت اگر کبھی مداہنہ کے طور پر مخالفوں کی طرف سے صلح صفائی کا پیغام آیا تو بدیں خیال کہ پھر یہ انبیاء کی مصیبتوں سے حصہ کہاں ۔ دل میں ایسی صلح کرنے سے ایک قبض سی وارد ہو جاتی ۔ اور میں نے بچشم خود مخالفوں کی یہ