تریاق القلوب — Page 473
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۷۳ تریاق القلوب قولنج وقے مفرط سخت بیمار ہے۔ جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقع میں ایک نازک حالت طاری تھی اور عجیب تریہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی جس کی شام کو حضور نے اس ابتلا سے اطلاع دی تھی ۔ شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر دم ڈوبتی جاتی تھی اور بے تابی ایسی تھی کہ باوجود کثیر الحیاء ہونے کے مارے درد کے بے اختیار ان کی چھینیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی اور ایسی نازک اور دردناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔ شدت مرض تخمینا تین ماہ تک رہی۔ اس قدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا صرف پانی پہنتیں اور قے کر دیتیں ۔ دن رات میں پچاس ساٹھ دفعہ متواتر قے ہوتی۔ پھر درد قدرے کم ہوا مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہنزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامنگیر ہوگئی ۔ ہر وقت جان بلب رہتیں دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچ کر بچوں اور عزیز اقربا کو پورے طور پر الوداعی غم والم سے رُلایا۔ غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دکھوں کی تختہ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بهوش تمام کلمہ شریف پڑھ کر ۲۸ برس کی عمر میں سفر جاودانی اختیار کیا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون اور اس حادثہ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا راہی ملک بقا ہوا۔ ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبد الرحیم و فیض رحیم پ محرقہ سے صاحب فراش ہوئے ۔ فیض رحیم کو تو ۱۵۴ کے ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اُس کا پیالہ عمر کا پورا ہو گیا اور سات سالہ عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جاملا اور عبدالرحیم تپ محرقہ اور سرسام سے برابر دو ڈھائی مہینے بیہوش میت کی طرح پڑا رہا۔ سب طبیب لا علاج