تریاق القلوب — Page 466
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۶ تریاق القلوب بزدلی اور بے دلی کے آثار اُن میں ظاہر کرتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض اُن میں سے صدمات عظیمہ کے برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پاگل اور دیوانہ ہو جاتے ہیں اور بعض کو دیکھا گیا ہے کہ کئی اور قسم کے دماغی اور دلی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خشی یا مرگی یا اسی کے مشابہ اور امراض خبیث اُن کے دامنگیر ہو جاتے ہیں اور بعض اس امتحان میں بہت ہی کمزور نکلتے ہیں اور کسی شدید غم کے حملہ کے وقت یا تو اپنے ہاتھ سے خود کشی کر لیتے ہیں اور یا خود وہ فوق الطاقت غم دل پر اثر کر کے اُن کو یک دفعہ اس نا پائدار دنیا سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور اس چند روزہ زندگی کا تمام تانا بانا جس کو انہوں نے ایک بڑی مراد سمجھ رکھا تھا ایک دم میں تو ڑ کر تمام کاروبار اُن کا خواب و خیال کی طرح کر دیتا ہے۔ غرض دنیا دار انسان کے دل کی کمزوری حکومت اور دولت اور آسائیش اور صحت کے وقت میں تکبر اور نخوت اور گردن کشی کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے تب وہ بدقسمتی سے اپنے جیسا کسی کو نہیں سمجھتا اور ایک نبی بھی اگر اُس کے وقت میں ہو اور اُس کے سامنے اس کا ذکر کیا جائے تو تحقیر اور تو ہین سے اس کو یاد کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ اس کی بزرگی ماننے سے میری بزرگی میں فرق نہ آجائے اور نہیں چاہتا کہ کوئی عظمت اس کی عظمت کے مقابل ٹھہر سکے اور پھر وہی کمزوری کسی سخت صدمہ اور حادثہ کے وقت میں غشی یا مرگی یا خودکشی یا دیوانگی یا گداز ہو ہو کر مر جانے کے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے پس یہ عبرت کا مقام ہے کہ دنیا داری کا انجام کیسا بد اور ہولناک ہے اور چونکہ سید صاحب دنیا کی جاہ اور حشمت کے طلب گار تھے اور اُن لوگوں میں سے نہیں تھے جن کے دلوں کو خدا تعالیٰ دنیا سے بکلی منقطع کر کے روحانی شجاعت ۱۵۰