تریاق القلوب — Page 460
۱۴۷ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۶۰ تریاق القلوب در حاشیـ میں بھی میرے لئے بداندیشی کرنے میں کچھ بھی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ایک بڑا طومار عیب گیری اور نکتہ چینیوں کا بنا کر اور انگریزی میں ترجمہ کرا کر پیش کیا جس سے یہ مطلب تھا کہ ان افتراؤں کو پڑھ کر عدالت کے دل پر بہت کچھ اثر ہو گا مگر رفع بھی نہیں ہوا۔ اور نہ اب تک اُن کی تطہیر ہوئی اور نہ اب تک اُن کے دشمنوں کی ذلت ہوئی اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال بدیہی البطلان ہے اور اگر یہودیوں کی طرح بے وجہ تحریف کر کے کلمات الہیہ کو اُن کے مواضع سے نہ اُٹھا لیا جائے تو یہ آیت بترتیب موجودہ بآواز بلند پکار رہی ہے کہ رفع وغیرہ وعدوں کے پہلے حضرت مسیح کا وفات پا جانا ضروری ہے کیونکہ اگر آیت يُعِينى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ لا میں فقرہ متوفیک کو اس جگہ سے جہاں خدا تعالیٰ نے اس کو رکھا ہے اُٹھا لیا جائے تو پھر اس فقرہ کے رکھنے کے لئے کوئی اور جگہ نہیں ملتی کیونکہ اس کو فقرہ رافعک الی کے بعد نہیں رکھ سکتے وجہ یہ کہ بموجب عقیدہ معتقدین رفع جسمانی کے رفع کے بعد بلا فاصلہ موت نہیں ہے بلکہ ضرور ہے کہ آسمان مسیح کو تھامے رہے جب تک کہ خاتم الانبیاء کے ظہور کے ساتھ وعدہ تطہیر پورا نہ ہو جائے ۔ ایسا ہی فقرہ مطھرک کے بعد بھی نہیں رکھ سکتے کیونکہ بموجب خیال اہل اس عقیدہ کے تطہیر کے بعد بھی بلا فاصلہ موت نہیں ہے بلکہ دائمی غلبہ کے بعد موت ہوگی۔ اب رہا غلبہ یعنی وعدہ فقره وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ کے سواس فقرہ کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس لئے اس جگہ بھی فقرہ متوفیک کو رکھ نہیں سکتے جب تک قیامت کا دن نہ آجائے اور قیامت کا دن تو حشر کا دن ہوگا نہ کہ موت کا دن ۔ لہذا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حصہ میں موت نہیں اور وہ بغیر مرنے کے ہی قیامت کے میدان میں پہنچ جائیں گے اور یہ خیال وعدہ توفی کے برخلاف ہے۔ لہذا فقرہ متوفیک کو اپنی جگہ سے اٹھانا موجب اجتماع نقیضین ہے اور وہ محال۔ اس لئے اس فقرہ کی تاخیر بھی محال ہے اور اگر محال نہیں تو کوئی ہمیں بتلا دے کہ اِس فقرہ کو اس جگہ سے اُٹھا کر کہاں رکھا جائے اور اگر کہے کہ رافعک کے بعد رکھا جائے تو ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ اس جگہ تو ہم کسی طرح نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ کسی کا عقیدہ نہیں ہے کہ رفع کے بعد بلا فاصلہ اور بغیر ظہور دوسرے واقعات مندرجہ آیت ھذا موت پیش آجائے گی اور یہی خرابی دوسری جگہوں میں ہے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اور اگر بلا وجہ قرآنی ترتیب کو الٹانا پلٹانا اور اسی تصرف کے مناسب حال معنے کر لینا جائز ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ ایسے تغییر تبدیل کے ساتھ نماز بھی درست ہو یعنی نماز میں اس طرح پڑھنا جائز ہو۔ یا عیسی انـی رافعک الی ثم متوفیک حالانکہ ایسا تصرف مفسد نماز اور داخل تحریف قرآن ہے۔ فتدبر - منه ۲۰۱ ال عمران ۵۶