تریاق القلوب — Page 459
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۵۹ تریاق القلوب جائے شکر تھا یا جائے شکایت لیکن محمد حسین پر کچھ بھی افسوس نہیں کیونکہ جس درجہ پر اُس نے اپنی عداوت اور کینہ کو پہنچایا ہے۔ اور جس مقدار تک اُس کے اندر میری نسبت بغض اور بداندیشی کا مادہ جمع ہے اس کا تقاضا ہی یہی تھا کہ وہ ایسے ایسے خلاف واقعہ امور کی طرف مضطر ہوتا۔ غرض ان لوگوں نے جس قدر دشمنی کے جوش میں وہ سب تدبیریں سوچیں جو انسان اپنے مخالف کے تباہ کرنے کے لئے سوچ سکتا ہے۔ اور جس قدر شدت عداوت کے وقت میں دنیا دار لوگ اندر ہی اندر منصوبے بنایا کرتے ہیں وہ سب بنائے اور زور لگانے میں کچھ بھی فرق نہ کیا اور میرے ذلیل اور ہلاک کرنے کے لئے ناخنوں تک زور لگایا اور مکہ کے بے دینوں کی طرح کوئی تدبیر اٹھا نہیں رکھی لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت سے ہیں برس پہلے پیشگوئی مذکورہ بالا میں صاف لفظوں میں فرمادیا تھا کہ میں تجھے دشمنوں کے شر سے بچاؤں گا۔ لہذا اس نے اپنے اس سچے وعدہ کے موافق مجھ کو بچایا۔ سوچنے کے لائق ہے کہ کیونکر انواع اقسام کی تدبیروں سے میرے پر حملے کئے گئے حتی سر قتل کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور ان مقدمات کے وقت نہ صرف محمد حسین نے پوشیدہ طور پر میرے مخالف تدبیریں سوچیں بلکہ کھلے کھلے طور پر پاور یوں کا گواہ بن کر عدالت میں حاضر ہوا اور پھر مسٹر ہے۔ ایم ڈوئی صاحب کی عدالت اور اس خوف سے اللہ تعالیٰ نے مسیح کوتسلی بخشی اور ایک لمبی عمر جو انسان کے لئے قانونِ قدرت میں داخل ہے اس کا وعدہ دیا اور یہ فرمایا کہ تو اپنی طبعی موت سے فوت ہوگا ۔ اب اس فیصلہ کے بعد دوسرا تنقیح طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ وعدہ پورا ہو چکا یا ابھی حضرت مسیح زندہ ہیں سو یہ تنقیح بھی نہایت صفائی سے فیصلہ پا چکی ہے اور فیصلہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ کی ترتیب صاف طور پر دلالت کر رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں کیونکہ اگر وہ اب تک فوت نہیں ہوئے تو پھر اس سے لازم آتا ہے کہ بقيه حاشي