تریاق القلوب — Page 456
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۵۶ تریاق الفن میں ایسی گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کے خیالات ظاہر کرتا جس کے احسانات ہمارے سر پر ہیں ۔ ہم اس سلطنت کے عہد سے پہلے خوفناک حالت میں تھے اس نے پناہ دی ۔ ہم سکھوں کے زمانہ میں ہر وقت ایک میں لعنتی ٹھہرے لیکن اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ اس بات پر دلیل کیا ہے کہ قرآن شریف میں اول سے آخر تک ظاہری ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے بجز دو چار مقام کے جو بطور شاذ و نادر ہیں۔ تو یہ ایک سوال ہے کہ خود قرآن شریف پر ایک نظر ڈال کر حل ہو سکتا ہے یعنی اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ اگر تمام قرآن اوّل سے آخر تک پڑھ جاؤ تو بجز چند مقامات کے جو بطور شاذ و نادر کے ہیں باقی تمام قرآنی مقامات کو ظاہری ترتیب کی ایک زریں زنجیری میں منسلک پاؤ گے اور جس طرح اُس حکیم کے افعال میں ترتیب مشہور ہو رہی ہے یہی ترتیب اس کے اقوال میں دیکھو گے اور یہ اس بات پر کہ قرآن ظاہری ترتیب کو ملحوظ رکھتا ہے ایسی پختہ اور بدیہی اور نہایت قوی دلیل ہے کہ اس دلیل کو سمجھ کر اور دیکھ کر بھی پھر مخالفت سے زبان کو بند نہ رکھنا صریح بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔ اگر ہم اس دلیل کو مبسوط طور پر اس جگہ لکھیں تو گویا تمام قرآن شریف کو اس جگہ درج کرنا ہوگا اور اس مختصر رسالہ میں یہ گنجائش نہیں ۔ یہ تو ہم قبول کرتے ہیں کہ شاذ و نادر کے طور پر قرآن شریف میں ایک دو مقام ایسے بھی ہیں کہ جن میں مثلاً عیسی پہلے آیا اور موسیٰ بعد میں آیا یا کوئی اور نبی متاخر جو پیچھے آنے والا تھا اُس کا نام پہلے بیان کیا گیا اور جو پہلا تھا وہ پیچھے بیان کیا گیا ۔ لیکن یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ چند مقامات بھی خالی از ترتیب ہیں بلکہ ان میں بھی ایک معنوی ترتیب ہے جو بیان کرنے کے سلسلہ میں بعض مصالح کی وجہ سے پیش آگئی ہے لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ قرآن کریم ظاہری ترتیب کا اشد التزام جمع رکھتا ہے اور ایک بڑا حصہ قرآنی فصاحت کا اس سے متعلق ہے۔ قرآن شریف کی ظاہری ترتیب پر جو شخص ولی یقین رکھتا ہے اُس پر صدہا معارف کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور صد ہا بار یک در باریک نکات تک پہنچنے کے لئے یہ ترتیب اُس کو رہنما ہو جاتی ہے اور قرآن دانی کی ایک کنجی اُس کے ہاتھ میں آجاتی ہے گویا ترتیب ظاہری کے نشانوں سے قرآن خود اسے بتلاتا جاتا ہے کہ دیکھو میرے اندر یہ خزانے ہیں لیکن جو شخص قرآن کی ظاہری ترتیب سے منکر ہے وہ بلا شبہ قرآن کے باطنی معارف سے بھی بے نصیب ہے۔ منہ