تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 769

تریاق القلوب — Page 440

روحانی خزائن جلد ۱۵۔ Al ۴۴۰ تریاق القلوب بلکہ جس پر جرم ثابت نہ ہو سکے اُس کا نام ڈسچارج ہے اور اس اعتراض سے محمد حسین کی غرض یہ تھی کہ تا لوگوں پر یہ ظاہر کرے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن جیسا کہ ہم اسی کتاب کے صفحہ ۸۱ میں تحریر کر چکے ہیں ۔ یہ اُس کی طرف سے محض افترا تھا اور دراصل ڈسچارج کا ترجمہ بری ہے اور کچھ نہیں اور اس نے عقل مندوں کے نزدیک بری کے انکار سے اپنی بڑی پردہ دری کرائی کہ اس بات سے انکار کیا کہ ڈسچارج کا ترجمہ بری نہیں ہے۔ چنانچہ اسی صفحہ مذکورہ یعنی صفحہ اکائی میں بہ تفصیل میں نے لکھ دیا ہے کہ انگریزی زبان میں کسی کو جرم سے بری سمجھنے یا بری کرنے کے لئے دو لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ (۱) ایک ڈسچارج ۔ (۲) دوسرے ایکنیٹ ۔ ڈسچارج اُس جگہ بولا جاتا ہے کہ جہاں حاکم مجوز کی نظر میں جرم کا ابتدا سے ہی کچھ ثبوت نہ ہو اور تحقیقات کے تمام سلسلہ میں کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو جو اُس کو مجرم ٹھہرا سکے اور فرد قرار داد جرم قائم کرنے کے لائق کر سکے۔ غرض اس کے دامن عصمت پر کوئی غبار نہ پڑ سکے اور بوجہ اس کے کہ جرم کے ارتکاب کا کچھ بھی ثبوت نہیں ملزم کو چھوڑا جائے ۔ اور ایکسٹ اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں اول جرم ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد جرم لگائی جائے اور پھر مجرم اپنی صفائی کا ثبوت دے کر اس الزام سے رہائی پائے ۔ غرض ان دونوں لفظوں میں قانونی طور پر فرق یہی ہے کہ ڈسچارج وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں سرے سے جرم ثابت ہی نہ ہو سکے۔ اور ایکٹ وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں جرم تو ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد بھی لگ جائے مگر آخر میں ملزم کی صفائی ثابت ہو جائے اور عربی میں بریت کا لفظ ایک تھوڑے سے تصرف کے ساتھ ان دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے یعنی جب ایک ملزم ایسی حالت میں چھوڑا جائے کہ اُس کے دامنِ عصمت پر کوئی دھبا جرم کا لگ نہیں سکا اور وہ ابتدا سے کبھی اس نظر سے دیکھا ہی نہیں گیا کہ وہ مجرم ہے ۱۳۵