تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 769

تریاق القلوب — Page 439

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۹ تریاق القلوب کی عادت رکھتا ہے بلکہ ایک شریف تو اس خجالت سے جیتا ہی مر جاتا ہے کہ حاکم مجاز عدالت کی کرسی پر اُس کو یہ کہے کہ یہ کیا گندہ طریق ہے جو تو نے اختیار کیا۔ اور ان کارروائیوں کا نتیجہ ذلت ہونا یہ تو ایک ادنیٰ امر ہے۔ خود پولیس کے افسر جنہوں نے مقدمہ اُٹھایا تھا اُن سے پوچھنا چاہیے کہ اُس کا رروائی کے دوران میں جبکہ وہ محمد حسین اور جعفر زٹلی کی گندہ زبانی کے کاغذات پیش کر رہے تھے کیا میری گندہ زبانی کا بھی کوئی کاغذ اُن کو ملا جس کو اُنہوں نے عدالت میں پیش کیا ۔ اور چاہو تو محمد حسین کو حلفاً پوچھ کر دیکھ لو کہ کیا جو واقعات عدالت میں تم پر گذرے اور جب کہ عدالت نے تم سے سوالات کئے کہ کیا یہ گندی تحریریں تمہاری تحریریں ہیں اور کیا جعفر زٹلی سے تمہارا کچھ تعلق ہے یا نہیں۔ تو ان سوالات کے وقت تمہارے دل کا کیا حال تھا۔ کیا اُس وقت تمہارا دل حاکم کے ان سوالات کو اپنی عزت سمجھتا تھا یا ذلت سمجھ کر غرق ہوتا جاتا تھا۔ اگر اتنے واقعات کے جمع ہونے سے جو ہم لکھ چکے ہیں پھر بھی ذلت نہیں ہوئی اور عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آیا تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آپ لوگوں کی عزت بڑی پکی ہے۔ پھر ماسوا اس کے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار کی میعاد کے اندر کئی اور ایسے امور بھی ظاہر ہوئے ہیں جن سے بلا شبہ مولوی محمد حسین صاحب کی عالمانہ عزت میں اس قدر فرق آیا ہے کہ گویا وہ خاک میں مل گئی ہے۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے پر چہ پیسہ اخبار اور اخبار عام میں کمال حق پوشی کی راہ سے یہ شائع کر دیا تھا کہ وہ مقدمہ جو پولیس کی رپورٹ پر مجھ پر اور اُن پر دائر کیا گیا تھا جو ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء میں فیصلہ ہوا اس میں گویا یہ عاجز بری نہیں ہوا بلکہ ڈسچارج ہوا اور بڑے زورشور سے یہ دعوی کیا تھا کہ فیصلہ میں مسٹرڈوئی صاحب کی طرف سے ڈسچارج کا لفظ ہے اور ڈسچارج بری کو نہیں کہتے