تریاق القلوب — Page 433
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۳ تریاق القلوب بلا شبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا ہوں جو حق اور راستی سے منحرف ہے لیکن میں کسی کلمہ گو کا نام کا فرنہیں رکھتا جب تک وہ میری تکفیر اور تکذیب کر کے اپنے تئیں خود کا فرنہ بنا لیوے۔ سو اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ انہوں نے مجھ کو کافر کہا۔ میرے لئے فتوئی طیار کیا۔ میں نے سبقت کر کے اُن کے لئے کوئی فتویٰ طیار نہیں کیا اور اس بات کا وہ خود اقرار کر سکتے ہیں کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہوں تو مجھ کو کافر بنانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (۱۳۱) کا فتویٰ اُن پر یہی ہے کہ وہ خود کا فر ہیں ۔ سو میں اُن کو کا فرنہیں کہتا بلکہ وہ مجھ کو کا فر کہہ کر خود فتویٰ نبوی کے نیچے آتے ہیں۔ سو اگر مسٹر ڈوئی صاحب کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں اُن کو کافر نہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے وليالي فقد اذنته للحرب ۔ یعنی جو میرے ولی کا دشمن بنتا ہے تو میں اُس کو کہتا ہوں کہ بس اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔ اگر چہ اوائل عداوت میں خداوند کریم ورحیم کے آگے ایسے لوگوں کی طرف سے کسی قدر عدم معرفت کا عذر ہو سکتا ہے لیکن جب اس ولی اللہ کی تائید میں چاروں طرف سے نشان ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نور قلب اس کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کی قبولیت کی شہادت آسمان اور زمین دونوں کی طرف سے بہ آواز بلند کانوں کو سنائی دیتی ہے تو نعوذ باللہ اس حالت میں جو شخص عداوت اور عناد سے باز نہیں آتا اور طریق تقومی کو بلکلی الوداع کہہ کر دل کو سخت کر لیتا ہے اور عناد اور دشمنی سے ہر وقت در پیئے ایذاء رہتا ہے تو اس حالت میں وہ حدیث مذکورہ بالا کے ماتحت آ جاتا ہے ۔ خدا تعالی بڑا کریم و رحیم ہے وہ انسان کو جلد نہیں پکڑتا لیکن جب انسان نا انصافی اور ظلم کرتا کرتا حد سے گذر جاتا اور بہر حال اس عمارت کو گرانا چاہتا ہے اور اس باغ کو جلا نا چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے طیار کیا ہے تو اس صورت میں قدیم سے اور جب سے کہ سلسلہ نبوت کی بنیاد پڑی ہے عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ ایسے مفسد کا دشمن