تریاق القلوب — Page 432
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۲ تریاق القلوب حاکم کے خوف سے اپنے تمام فتووں کو برباد کر لیا اور حکام کے سامنے اقرار کر دیا کہ میں آئیندہ ان کو کا فرنہیں کہوں گا اور نہ اِن کا نام دجال اور کاذب رکھوں گا۔ پس سوچنے کے لائق ہے کہ اس سے زیادہ اور کیا ذلت ہوگی کہ اُس شخص نے اپنی عمارت کو اپنے ہاتھوں سے گرایا ۔ اگر اُس عمارت کی تقویٰ پر بنیاد ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ محمد حسین اپنی قدیم عادت سے باز آجاتا۔ ہاں یہ بچی ہے کہ اس نوٹس پر میں نے بھی دستخط کئے ہیں مگر اس دستخط سے خدا اور منصفوں کے نزدیک میرے پر کچھ الزام نہیں آتا اور نہ ایسے دستخط میری ذلت کا موجب ٹھہرتے ہیں کیونکہ ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کا فریا دجال نہیں ہوسکتا۔ ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہوگا اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا ہاں میں ایسے سب لوگوں کو ضال اور جادہ صدق وصواب سے دور سمجھتا ہوں جو اُن سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں۔ میں یہ نکتہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کا فرکہنا یہ صرف اُن نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر اہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جا تا۔ ہاں بدقسمت منکر جوان مقربانِ الہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ نو بر ایمان اُس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیاء اور اُن سے دشمنی رکھنا اول انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمال حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی اُن سے تو فیق چھین لیتا ہے اور پھر آخر سب ایمان کا موجب ہو کر د بیداری کی اصل حقیقت اور مغز سے اُن کو بے نصیب اور بے بہرہ کر دیتا ہے اور یہی معنے ہیں اس حدیث کے کہ من عادا