تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 769

تریاق القلوب — Page 431

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۱ تریاق القلوب کیا اُس کے لئے یہ ذلت نہیں ہے کہ اب تک اُس کو یہ خبر ہی نہیں کہ عجب کا صلہ لام بھی آیا کرتا ہے۔ کیا اس قدر جہالت کہ مشکوۃ کی کتاب الایمان کی حدیث کی بھی خبر نہیں۔ کیا یہ عزت کا موجب ہے اور اس سے مولویت کے دامن کو کوئی ذلت کا دھبہ نہیں لگتا ؟ پھر جبکہ یہ امر پبلک پر عام طور پر کھل گیا اور ہزار ہا اہل علم کو معلوم ہو گیا کہ محمد حسین نہ (۱۳۰) صرف علم صرف ونحو سے ناواقف ہے بلکہ جو کچھ احادیث کے الفاظ ہیں اُن سے بھی بے خبر ہے تو کیا یہ شہرت اُس کی عزت کا موجب ہوئی یا اُس کی ذلت کا ؟۔ پھر تیسرا پہلو ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہ ہے کہ مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر سابق ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے اپنے حکم ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء میں مولوی محمد حسین سے اس اقرار پر دستخط کرائے کہ وہ آئندہ مجھے دجال اور کافر اور کاذب نہیں کہے گا ۔ اور قادیاں کو چھوٹے کاف سے نہیں لکھے گا اور اُس نے عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ آئندہ وہ مجھے کسی مجلس میں کافر نہیں کہے گا اور نہ میرا نام دجال رکھے گا اور نہ لوگوں میں مجھے جھوٹا اور کاذب کر کے مشہور کرے گا۔ اب دیکھو کہ اس اقرار کے بعد وہ استفتاء اُس کا کہاں گیا جس کو اُس نے بنارس تک قدم فرسائی کر کے طیار کیا تھا اگر وہ اُس فتوے دینے میں راستی پر ہوتا تو اُس کو حاکم کے روبروئی یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ میرے نزدیک بے شک یہ کافر ہے اس لئے میں اس کو کافر کہتا ہوں اور دجال بھی ہے اس لئے میں اس کا نام دجال رکھتا ہوں اور یہ شخص واقعی جھوٹا ہے۔ اس لئے میں اس کو جھوٹا کہتا ہوں بالخصوص جس حالت میں خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میں اب تک اور اخیر زندگی تک اُنہی عقائد پر قائم ہوں جن کو محمد حسین نے کلمات کفر قرار دیا ہے تو پھر یہ کس قسم کی دیانت ہے کہ اُس نے