تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 769

تریاق القلوب — Page 427

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۷ تریاق القلوب ہونے سے وہ ڈرتا تھا کہ اپنی قوم مسلمانوں کے رُوبرو تو اُس نے یہ ظاہر کیا کہ وہ ایسے مہدی کو بدل و جان مانتا ہے کہ جو دنیا میں آکر لڑائیاں کرے گا اور ہر ایک قوم کے مقابل پر یہاں تک کہ عیسائیوں کے مقابل پر بھی تلوار اُٹھائے گا۔ اور پھر اس فہرست انگریزی کے ذریعہ سے گورنمنٹ پر یہ ظاہر کرنا چاہا کہ وہ خونی مہدی کے متعلق تمام حدیثوں کو مجروح اور ناقابل اعتبار جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت سے وہ پوشیدہ کارروائی اُس کی پکڑی گئی اور نہ صرف قوم کو اس سے اطلاع ہوئی بلکہ گورنمنٹ تک بھی یہ بات پہنچ گئی کہ اُس نے اپنی تحریروں میں دونوں فریق گورنمنٹ اور رعایا کو دھوکا دیا ہے اور ہر ایک ادنی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ پردہ دری محمد حسین کی ذلت کا باعث تھی اور وہی انکارِ مہدی جس کی وجہ سے اس ملک کے نادان مولوی مجھے کافر اور دجال کہتے تھے محمد حسین کے انگریزی رسالہ سے اس کی نسبت بھی ثابت ہو گیا یعنی یہ کہ وہ بھی اپنے دل میں ایسی حدیثوں کو موضوع اور بیہودہ اور لغو جانتا ہے ۔ غرض (۱۲۸) یہ ایک ایسی ذلت تھی کہ یک دفعہ محمد حسین کو اپنی ہی تحریر کی وجہ سے پیش آگئی اور ابھی ایسی ذلت کا کہاں خاتمہ ہے۔ بلکہ آئندہ بھی جیسے جیسے گورنمنٹ اور مسلمانوں پر کھلتا جائے گا کہ کیسے اس شخص نے دورنگی کا طریق اختیار کر رکھا ہے ویسے ویسے اس ذلت کا مزہ زیادہ سے زیادہ محسوس کرتا جائے گا۔ اور اس ذلت کے ساتھ ایک دوسری ذلت اُس کو یہ پیش آئی کہ میرے اشتہار ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کے صفحہ ۲ کی اخیر سطر میں جو یہ الہامی عبارت تھی کہ اتعجب لامری اس پر مولوی محمد حسین صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ یہ عبارت غلط ہے اس لئے یہ خدا کا الہام نہیں ہو سکتا اور اس میں غلطی یہ ہے کہ فقرہ اتعجب لامری | میں جو لفظ لا مری لکھا ہے یہ من امری چاہیے تھا کیونکہ عجب کا صلہ من آتا ہے