تریاق القلوب — Page 423
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۳ تریاق القلوب ہو جاتا ہے بلکہ یہ صلاحیت بہت ترقی کر کے بطور ایک نشان اور خارق عادت امر کے اس میں ظاہر ہوتی ہے۔ غرض یہ چار مراتب کمال ہیں جن کو طلب کرنا ہر ایک ایماندار کا فرض ہے اور جو شخص ان سے بکلی محروم ہے وہ ایمان سے محروم ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کے لئے یہی دعا مقرر کی ہے کہ وہ ان ہر چہار کمالات کو طلب کرتے رہیں ۔ اور وہ دعا یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور قرآن شریف کے دوسرے مقام میں اس آیت کی تشریح کی گئی ہے اور ظاہر فرمایا گیا ہے کہ منعم علیہم سے مراد نبی اور صدیق اور شہید اور صالحین ہیں اور انسان کامل ان ہر چہار کمالات کا مجموعہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ منجمله خدا تعالیٰ کے ان نشانوں کے جو میری تائید میں ظہور میں آئے وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اشتہار ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء میں کی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعة السنه نے میرے ذلیل سے ہی منکر ہیں ۔ وہ قصہ جو قرآن شریف میں حضرت آدم صفی اللہ کی نسبت مذکور ہے جو ۱۳۶ ) فرشتوں نے اُن پر اعتراض کیا اور جناب الہی میں عرض کیا کہ کیوں تو ایسے مفسد اور خون ریز کو پیدا کرتا ہے؟ یہ قصہ اپنے اندر یہ پیشگوئی مخفی رکھتا ہے کہ اہل کمال کی ہمیشہ نکتہ چینی ہوا کرے گی ۔ خدا تعالی نے اس غرض سے خضر کا قصہ بھی قرآن شریف میں لکھا ہے تا لوگوں کو معلوم ہو کہ ایک شخص ناحق خون کر کے اور قیموں کے مال کو عمد ا نقصان پہنچا کر پھر خدا تعالیٰ کے نزدیک بزرگ اور برگزیدہ ہے۔ ہاں اس سوال کا جواب دینا باقی رہا کہ اس طرح پر امان اُٹھ جاتا ہے اور شریر انسانوں کے لئے ایک بہانہ ہاتھ آجاتا ہے۔ اور وہ کوئی بد عملی کر کے خضر کی طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے خدا کے حکم سے یہ کام کیا ہے اور یہ ایک مقام اشکال ہے کہ ایک طرف تو خدا یہ کہے کہ میں ظلم اور فحشا ء کا حکم نہیں دیتا اور الفاتحة : ٧،٦