تریاق القلوب — Page 422
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۲ تریاق القلوب ایک چوتھا مرتبہ بھی ہے جو کامل اصفیاء اور اولیاء کو مکمل ور ا تم طور پر ملتا ہے اور وہ صالحین کا مرتبہ ہے اور صالح اُس وقت کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ ہر ایک فساد سے اُس کا اندرون خالی اور پاک ہو جائے اور اُن تمام گندے اور تلخ مواد کے دور ہونے کی وجہ سے عبادت اور ذکر الہی کا مزہ اعلیٰ درجہ کی لذت کی حالت پر آجائے کیونکہ جس طرح زبان کا مزہ جسمانی تلخیوں کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے ایسا ہی روحانی مزہ روحانی مفاسد کی وجہ سے متغیر ہو جاتا ہے اور ایسے انسان کو کوئی لذت عبادت اور ذکر الہی کی نہیں آتی اور نہ کوئی انس اور ذوق اور شوق باقی رہتا ہے لیکن کامل انسان نہ صرف مواد فاسدہ سے پاک اور ایسا ہی خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیتے ہیں اور بہت سے امور خلاف تقومی اُن کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ حلیہ ایمان سے بھی اُن کو عاری سمجھتے ہیں تو اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ صدیق کے لئے تقویٰ اور امانت اور دیانت شرط ہے تو یہ تمام بزرگ اور اعلیٰ طبقہ کے انسان جو رسول اور نبی اور ولی ہیں کیوں خدا تعالیٰ نے اُن کے حالات کو عوام کی نظر میں مشتبہ کر دیا اور وہ اُن کے افعال اور اقوال کو سمجھنے سے اس قدر قاصر رہے کہ اُن کو دائرہ تقویٰ اور امانت اور دیانت سے خارج سمجھا اور ایسا خیال کر لیا کہ گویا وہ لوگ ظلم کرنے والے اور مال حرام کھانے والے اور خون ناحق کرنے والے اور دروغ گوئی اور عہد شکن اور نفس پرست اور جرائم پیشہ تھے حالانکہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ نہ رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور نہ نبی ہونے کا ۔ اور نہ اپنے تئیں ولی اور امام اور خلیفہ المسلمین کہلاتے ہیں لیکن با ایں ہمہ کوئی اعتراض اُن کے چال چلن اور زندگی پر نہیں ہوتا تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیا کہ تا اپنے خاص مقبولوں اور محبوبوں کو بد بخت شتاب کاروں سے جن کی عادت بد گمانی ہے مخفی رکھے جیسا کہ خود وجو د اس کا اس قسم کی بدظنی کرنے والوں سے مخفی ہے ۔ بہتیرے دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتے ہیں اور اُس کو ظالم اور نا قدر شناس سمجھتے ہیں یا اُس کے وجود ۱۲۵ વધુ માન