تریاق القلوب — Page 421
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۲۱ تریاق القلوب دور ہو جاتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضاء وقد ر بباعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے ۔ سو شہید اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوت ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہو اور اُس کے تلخ قضا و قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اُٹھاتا ہے اور اسی معنے کے رو سے شہید کہلاتا ہے ۔ اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لئے بطور نشان کے ہے اور اس کے بعد یہ عہد کیا کہ ہم ابھی چند روز کے بعد واپس آکر یہ تمام مال واپس دے دیں گے ۔ مگر عہد کو تو ڑا اور مال بیگا نہ ہضم کیا اور جھوٹ بولا اور کہتے ہیں کہ یہ موسیٰ کا گناہ تھا کیونکہ اُس کے مشورہ اور علم سے ایسا کیا گیا اور اُس نے اس حرکت پر بنی اسرائیل کو کچھ سرزنش نہیں کی بلکہ اسی مال سے وہ بھی کھاتا رہا۔ ایسا ہی حضرت مسیح پر بھی اُن کے دشمنوں نے اعتراض کیا ہے کہ وہ تقویٰ کے پابند نہ تھے چنانچہ ایک بد کا رعورت نے ایک نفیس عطر جو بد کاری کے مال سے خریدا گیا تھا اُن کے سر پر ملا اور اپنے بالوں کو اُن کے پیروں پر ملا اور ایک جوان اور فاحشہ عورت کا اُن کے بدن کو چھونا اور حرام کا تیل اُن کے سر پر ملنا اور اُن کے اعضاء سے اپنے اعضاء ی کو لگانا یہ ایک ایسا امر ہے جو ایک پرہیز گار اور متقی اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا ۔ اور نیز مسیح کا اجازت دینا کہ تا اُس کے شاگرد ایک غیر کے کھیت کے خوشے بلا اجازت ما لک کھا وہیں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نعوذ باللہ مسیح کو امانت اور دیانت کی پروا نہ تھی ۔ یہ وہ اعتراض ہیں جو یہودیوں نے حضرت مسیح پر کئے ہیں اور یہودیوں کی چند کتابیں جو میرے پاس موجود ہیں اسی قسم کی ایسی سختی ان میں حضرت مسیح علیہ السلام پر کی گئی ہے جن میں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ نعوذ با اللہ کوئی بھی نیک صفت حضرت مسیح میں موجود نہ تھی ۔ ایسا ہی عیسائیوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت اور تقویٰ اور امانت پر اعتراض کئے ہیں اور نعوذ باللہ آنجناب کو ایک نفس پرست اور خونریز اور دوسروں کے مال لوٹنے والا انسان خیال کیا ہے ۔ اور ایسا ہی روافض نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی عفت اور امانت اور دیانت اور عدالت پر انواع اقسام کے عیب لگائے ہیں اور اُن کے نام منافق غاصب ظالم رکھتے ہیں