تریاق القلوب — Page 412
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۱۲ تریاق القلوب جوش پیدا کریں۔ چنانچہ میرے ان الہامات سے اکثر مسلمان جوش میں آگئے اور بعض نے میری نسبت لکھا کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ اب ہم ذیل میں بتلاتے ہیں کہ ہماری یہ پیشگوئی بچی نکلی یا جھوٹی۔ واضح ہو کہ عرصہ تخمیناً دو ماه یا تین ماہ کا گذرا ہے کہ ایک معزز ترک کی معرفت ہمیں یہ خبر ملی تھی کہ حسین کا می مذکور اپنی ایک مجرمانہ خیانت کی وجہ سے اپنے عہدہ سے موقوف کیا گیا ہے اور اُس کی املاک ضبط کی گئی۔ مگر میں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کر کے شائع نہیں کیا تھا کہ شاید غلط ہو ۔ آج اخبار نیر آصفی مدراس مورخہ ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۹ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصل طور پر معلوم ہو گیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت کامل صفائی سے پوری ہو گئی اور وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اُس کو کی تھی کہ تو بہ کرو تا نیک پھل پاؤ جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں شائع کر دیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداش کردار کو پہنچ گیا اور اب وہ ضرور اُس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا ۔ مگر افسوس یہ ہے کہ وہ اس ملک کے بعض ایڈیٹر ان اخبار اور مولویان کو بھی جو اُس کو نائب خلیفتہ المسلمین اور رکن امین سمجھ بیٹھے تھے اپنے ساتھ ہی ندامت کا حصہ دے گیا اور اس طرح پر انہوں نے ایک صادق کی پیشگوئی کی تکذیب کا مزہ چکھ لیا۔ اب اُن کو چاہیئے کہ آئندہ اپنی زبانوں کو سنبھالیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے بار بار اُن کو خجالت پہنچ رہی ہے؟ اگر وہ سچ پر ہیں تو کیا باعث کہ ہر ایک بات میں آخر کار کیوں اُن کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ اب ہم اخبار مذکور میں سے وہ چٹھی مع تمہیدی عبارت کے ذیل میں نقل کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ دو چندہ مظلومان کریٹ اور ہندوستان " ہمیں آج کی ولایتی ڈاک میں اپنے ایک لائق اور معزز نامہ نگار کے پاس سے