تریاق القلوب — Page 380
۱۰۷ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۸۰ تریاق القلوب جب انسان پر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں تو اُس موقع پر کرتے ہیں جبکہ کوئی مقتول قتل ہونے کے وقت گوسالہ کی طرح آواز نکالتا ہے جیسا کہ اُسی لسان العرب میں خوار کے لفظ کے بیان میں صفحہ ۳۴۵ میں ان معنوں کی تصدیق کے لئے ایک حدیث لکھی ہے اور وہ یہ ہے:۔ وفی حدیث مقتل ابی بن خلف فخر يخور كما يخور الثور يعنى جب أبي بن خلف قتل کیا گیا تو یوں آواز نکالتا تھا جیسا کہ بیل آواز نکالتا ہے اور کبھی خوار کا لفظ عرب کی زبان میں اُس ہتھیار کی آواز پر بولا جاتا ہے جو چلایا جاتا ہے ۔ چنانچہ لسان العرب کے اُسی صفحہ ۳۴۵ میں ایک نامی شاعر عرب کا اس محاورہ کے حوالہ میں ایک شعر لکھا ہے اور وہ یہ ہے:۔ يَخُرُنَ إِذَا أُنفَدْنَ فِي سَاقِطِ النَّدَى وَإِنْ كَانَ يَوْمًا ذَا أَهَاضِيبَ مُخْضِلًا یعنی ان تیروں میں سے جو چلائے جاتے ہیں اور پھر نکالے جاتے ہیں گوسالہ کی آواز کی طرح ایک آواز آتی ہے۔ اگر چہ ایسا دن ہو جس میں متواتر بارش ہوئی ہو اور ہر ایک چیز کو تر کر دیتا ہو۔ اور شعر میں جو لفظ ساقط الندی آیا ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ جو درختوں پر بارش ہو کر پھر درختوں پر جو کچھ پانی جمع ہو کر پھر وہ زمین پر پڑتا ہے اُس پانی کا نام ساقط ہے اور ندی جنگلی درختوں کو کہتے ہیں جن کو ہندی میں بن کہتے ہیں ۔ اور شاعر کا اس جگہ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تیروں کی صفائی اور استقامت اور اُن کی تیزی کی تعریف کرتا ہے کہ اُن میں سے چلانے اور پھیرنے کے وقت ایک آواز آتی ہے جیسا کہ گوسالہ کی آواز ہوتی ہے اور اگر چہ سخت جھڑی لگی ہوئی ہوا اور متواتر بارشیں ہو رہی ہوں اُن تیروں کو بباعث عمدگی صنعت اور اچھے ہو نے قسم لکڑی کے کوئی حرج نہیں پہنچتا۔ غرض اس نہایت معتبر کتاب سے جو لسان العرب ہے ثابت ہوتا