تریاق القلوب — Page 379
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۷۹ تریاق القلوب اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِذا هلک کسری فلا كسرى بعده - یعنی جب کسری ہلاک ہو جائے گا تو دوسرا کسری پیدا نہیں ہو گا جو ظلم اور جو رو جفا میں اُس کا قائم مقام ہو۔ اس حدیث سے استنباط ہو سکتا ہے کہ کسی بد زبان اور فحش گو اور دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرنے کے بعد جو کسی قوم میں ہو پھر ایسی ہی خصلت کا کوئی اور انسان اس قوم کے لئے پیدا ہونا خیال محال ہے کیونکہ خدا ہمیشہ اپنے راستبازوں کی نسبت گالیاں اور گندہ زبانی سننا نہیں چاہتا۔ اب ہم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ لیکھرام والی پیشگوئی کس قدر انکشاف اور زور شور سے واقعہ قتل سے پانچ سال پہلے بتلائی گئی تھی ۔ سو واضح ہو کہ جب لیکھرام نے نہایت اصرار کے ساتھ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی تو مجھے دُعا کے بعد یہ الہام ہوا ۔ عــجــل جسدله خوار ـ لـه نـصـب و عذاب ۔ یعنی یہ ایک بے جان گوسالہ ہے جس میں مارے جانے کے وقت گوسالہ کی طرح ایک آواز نکلے گی اور اس میں جان نہیں اور اس کے لئے نصب اور عذاب ہے۔ لسان العرب میں جو لغت عرب میں ایک پرانی اور معتبر کتاب ہے لفظ نصب کے معنے علاوہ اور کئی معنوں کے ایک یہ بھی لکھے ہیں کہ جب کہا جائے نصب فلان لفلان تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کسی شخص نے اس شخص پر جان لینے کے لئے حملہ کیا اور دشمنی کی راہ سے اس کے فنا کرنے کے لئے پوری پوری کوشش کی ۔ چنانچہ لسان العرب کے اس مقام میں اپنے لفظ یہ ہیں : نصب فلان لفلان نصبًا إذا قصدله وعاداه وتجرد له ۔ جس کے یہی معنے ہیں جو او پر کئے گئے ۔ دیکھولسان العرب لفظ نصب صفحه ۲۵۸ سطر نمبر ۲ ۔ اور خوار کا لفظ لغت عرب میں گوسالہ کی آواز کے لئے آتا ہے۔ لیکن