تریاق القلوب — Page 367
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۶۷ تریاق القلوب بد زبانی اور سخت گوئی اور دریدہ دہنی اور نہایت درجہ کی گستاخی اور مخش گوئی کے کچھ بھی مہلت نہ دی بلکہ اُس کو ایسے وقت میں پکڑ لیا جبکہ ابھی اس کی پیشگوئی کی میعاد میں سے قریباً دو برس باقی رہتے تھے ۔ پس جس قدر آتھم نے اپنے ڈرنے اور لرزاں اور ہراساں ہونے کی وجہ سے پیشگوئی کی میعاد کے دن زیادہ کرا لئے اسی قدر لیکھرام نے اپنی بد زبانی اور سخت گوئی کی وجہ سے پیشگوئی کے میعاد کے دن کم کرالئے یعنی عبد اللہ آتھم نے پیشگوئی کو سن کر خوف ظاہر کیا اور وہ پیشگوئی کے تمام ایام میں ڈرتا رہا اور روتا رہا اور ایک لفظ بھی بے ادبی کا اُس کے منہ سے نہ نکلا بلکہ صحبت بد سے بھی منہ پھیر کر گوشہ نشین اور خلوت گزین ہو گیا اور اپنی پہلی عادات بحث مباحثہ اور سخت گوئی سے رجوع کر لیا بلکہ دہشت زدہ ہو کر بالکل چپ ہو گیا اس لئے خدا نے جو رحیم و کریم خدا ہے اپنی الہامی شرط اور وعدہ کے موافق اُس کی زندگی کے دن کسی قدر بڑھا دیئے۔ لیکن لیکھرام پیشگوئی کوسن کر اور بھی خیر طبع ہوا اور پہلے سے بھی زیادہ بدزبانی کرنا اور گالیاں نکالنا اور خدا کے پاک نبیوں کو بُرا کہنا شروع کر دیا ۔ اس لئے خدا نے اُس کی زندگی کے دنوں میں سے قریبا دو برس گھٹا دئیے جیسا کہ آتھم کے دن قریباً اسی قدر بڑھا دیئے۔ سو یہ ایک نکتہ معرفت ہے جس سے خدا تعالیٰ کی دو مختلف عادتیں اُن دو شخصوں کے ساتھ ظہور میں آئیں جنہوں نے دو مختلف طور پر اپنے جو ہر ظاہر کئے ۔ بلا شبہ عارفوں کے لئے یہ عجیب دلکش نظارہ ہے کہ کیونکر خوف اور نرمی کی وجہ سے ایک کی زندگی کے دن بڑھائے گئے اور دوسرے کے دن شوخی اور بد زبانی کی وجہ سے اسی قدر گھٹائے گئے اور بلا شبہ لیکھرام کا قصہ ڈپٹی آتھم کے قصے کا مصرع ثانی ہے اور آتھم کے قصے سے ذوق اُٹھانے کے لئے ضرور ہے کہ ساتھ اس کے لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی کا قصہ بھی پڑھا جائے اور