تریاق القلوب — Page 364
روحانی خزائن جلد ۱۵ بقیه حاشيه ۳۶۴ تریاق القلوب ایسا ہی وقوع میں آیا اور جب آتھم کی زندگی کے وقت اور نیز اُس کے فوت کے بعد ہمارے وہ رسائل اور اشتہار شائع ہوئے جن میں نہایت صاف اور مدلل طور پر ثابت کیا گیا تھا کہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی تھی وہ کمال صفائی سے پوری ہوگئی تو تمام اہل انصاف اور دیانت نے اپنی غلطی کا اقرار کیا کیونکہ وہ پیشگوئی ایسی صفائی اور قوت اور عظمت سے بھری ہوئی تھی کہ نہ صرف ایک پہلو سے بلکہ دو پہلو سے ثابت ہوگئی تھی یعنی ایک یہ پہلو کہ آکھم نے الہامی شرط کی پابندی اختیار کر کے اور درخت کی طرح ہوتے ہیں جس کی جڑ نہایت مضبوط اور زمین کے پاتال تک پہنچی ہوئی ہو اور شاخیں آسمان میں داخل ہوں۔ لیکن وہی کلمات جب عوام کے محاورہ میں آتے ہیں تو عوام کا لا نعام اپنی محدود فہم اور کوتا و عقل کی وجہ سے نہایت ذلیل معنوں میں ان کو لے آتے ہیں جو روحانیوں کے نزدیک قابل شرم ہوتے ہیں کیونکہ اُن کی دنیوی عقلوں کو آسمان سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتے کہ روحانی روشنی کیا شے ہے اس لئے وہ جلد تر اپنی موٹی سمجھ کے موافق نبی کے اعلیٰ مقاصد اور بلند تر اشارات کو صرف دنیوی اور فانی رشتوں پر ہی ختم کر دیتے ہیں اور وہ نہیں سمجھ سکتے کہ اس فانی اور نا پائیدار رشتہ کے وراء الوراء اور قسم کے رشتے بھی ہوتے ہیں اور ایسا ہی اور قسم کی آل ہوتی ہے جو مرنے کے بعد منقطع نہیں ہو سکتی اور نفی لا انساب بَینھم کے نیچے نہیں آتی نہ صرف اس قسم کی آل جو فدک جیسے ایک نام کے باغ اور چند درختوں کے لئے لڑتے پھریں اور مشتعل ہو کر کبھی ابو بکر کو برا کہیں اور کبھی عمر کو بلکہ خدا کے پیاروں اور مقبولوں کیلئے روحانی آل کا لقب نہایت موزوں ہے اور وہ روحانی آل اپنے روحانی نانا سے وہ روحانی وراثت پاتے ہیں جس کو کسی غاصب کا ہاتھ غصب نہیں کر سکتا اور وہ اُن باغوں کے وارث مظہر تے ہیں جن پر کوئی دوسرا قبضہ نا جائز کر ہی نہیں سکتا۔ پس یہ سفلی خیال بعض اسلامی فرقوں میں اس وقت آگئے ہیں جبکہ اُن کی روح مردہ ہوگئی اور اُس کو روحانی طور پر آل ہونے کا کچھ بھی حصہ نہ ملا اس لئے روحانی مال سے لاوارث ہونے کی وجہ سے اُن کی عقلیں موٹی ہو گئیں اور اُن کے دل ملد را اور کو تہ بین ہو گئے ۔ اس میں کس ایماندار کو کلام ہے کہ حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمة الهدی تھے