تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 769

تریاق القلوب — Page 363

روحانی خزائن جلد ۱۵ حلا حاشيه ۳۶۳ تریاق القلوب فرمائے ہیں اس پیشگوئی کا ماحصل یہی ہے کہ مہدی معہود کے ساتھ عیسائیوں کا کچھ مناظرہ اور مباحثہ ہو گا ۔ پہلے تو ایک معمولی بات ہوگی لیکن پھر وہ ایک بڑا امر ہو جائے گا جس کا جابجا تذکرہ ہوگا ۔ اور شیطان آواز دے گا کہ اُس تنازع میں جو ما بین مسلمین اور نصاریٰ ہوگا ۔ حق آل عیسی کے ساتھ ہے اور آسمان سے آواز آئے گی یعنی الہامی طور پر جتلایا جائے گا کہ حق آل محمد کے ساتھ ہے یعنی آخر خدا کا الہام پاک دلوں کو جو روحانی طور پر آل محمد کہلاتے ہیں یہ یقین دلا دے گا کہ عیسائیوں کا شوروغوغا عبث تھا اور حق اہلِ اسلام کے ساتھ ہے ۔ چنانچہ اس حدیث میں لفظ آل عیسی اور آل محمد محض استعارہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی پس اس جگہ بلاشبہ آل عیسی سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ عیسی خدا ہے اور ہم اُس خدا کے فرزندوں کی طرح ہیں اور مرکز اُس کی گود میں سوتے ہیں سو اسی قرینہ سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی دنیوی رشتہ مرادنہیں ہے بلکہ آل سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرزندوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی مال کے وارث ٹھہرتے ہیں بلکہ ہر جگہ آل کے لفظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی مراد ہے نہ دنیوی رشتہ کہ جو ایک سفلی اور فانی امر ہے جو موت کے ساتھ ہی کا انساب بَینھم کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ نبی کا نفس کبھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکتا کہ آل کے لفظ سے محض اُس کی یہ غرض ہو کہ عام دنیا داروں کی طرح ایک سفلی اور فانی رشتہ کا لوگوں کو پیر و بنا نا چا ہے ۔ ظاہر ہے کہ نبی کی نظر آسمان پر ہوتی ہے اور اُس کا ساحت عزت اور مبلغ ہمت اس سے پاک ہے کہ وہ بار بار ایسے رشتوں کو پیش کرے جن کے ساتھ ایمان اور صداقت اور تقوی لازم ملزوم نہیں ہے اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرما دے کہ یہ دنیوی رشتے اسی دنیا تک ختم ہو جاتے ہیں اور قیامت میں انساب نہیں رہیں گے ۔ لیکن اس کا نبی ایک ادنی سے رشتہ پر ہی زور دیتا ر ہے جو لڑ کی کی اولاد ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ خدا تعالی کے پاک اور تعظیم الشان انبیاء جو جو کلمات منہ پر لاتے ہیں وہ اس قدر معارف اور حقائق اپنے اندر رکھتے ہیں کہ گویا زمین سے شروع ہو کر آسمان تک جا پہنچتے ہیں ۔ یا یوں کہو کہ آسمان سے زمین تک آفتاب کی شعاع کی طرح نازل ہوتے ہیں اور وہ تمام کلمات اُس