تریاق القلوب — Page 353
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۵۳ تریاق القلوب دیکھی تھی تو میں نے انہی ایام میں کہ جب تھوڑے ہی دن اُن کی وفات پر گذرے تھے اُن کو خواب میں دیکھا تو میں نے اُن کے پاس اپنی یہ خواب بیان کی کہ میں نے دیکھا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک نہایت چمکیلی اور روشن تلوار ہے جس کا قبضہ میرے ہاتھ میں اور نوک کی طرف آسمان میں ہے اور نہایت چمکدار ہے اور اس میں سے ایک چمک نکلتی ہے جیسا کہ آفتاب کی چمک اور میں کبھی اُس کو دائیں طرف چلاتا ہوں اور کبھی بائیں طرف اور ہر ایک دفعہ جو میں وار کرتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے کناروں تک وہ تلوارا اپنی لمبائی کی وجہ سے کام کرتی ہے اور میں ہر وقت محسوس کرتا ہوں کہ آفتاب کی بلندی تک اُس کی نوک پہنچتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے۔ اور گو وہ دائیں بائیں میرے ہاتھ سے پڑتی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہے مگر قوت آسمان سے ہے۔ اور ہر ایک دفعہ جو میں دائیں طرف یا بائیں طرف اس کو چلاتا ہوں تو ہزار ہا انسان زمین کے کناروں تک اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ خواب تھی جو میں نے عبد اللہ صاحب مرحوم کے پاس بیان کی اور مضمون یہی تھا۔ اور شاید اُس وقت اور الفاظ میں بیان کی گئی ہو یا یہی الفاظ ہوں ۔ عبداللہ صاحب مرحوم نے میری خواب کو سن کر بیان کیا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تلوار سے مراد اتمام حجت اور تکمیل تبلیغ اور دلائل قاطعہ کی تلوار ہے ۔ اور یہ جو دیکھا کہ وہ تلوار دائیں طرف زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے ۔ سو اس سے مراد دلائل روحانیہ ہیں جو از قسم خوارق اور آسمانی نشانوں کے ہوں گے۔ اور جو یہ دیکھا گیا کہ ایسا ہی وہ بائیں طرف بھی زمین کے کناروں تک مار کرتی ہے تو اس سے مراد دلائل عقلیہ وغیرہ ہیں جن سے ہر ایک فرقہ پر اتمام حجت ہوگا ۔ پھر