تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 769

تریاق القلوب — Page 341

تریاق القلوب ۳۴۱ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف 191 سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اُس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور میں اُس کو دور سے دیکھ رہا ہوں ۔ اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا۔ اور مجھے الہام ہوا کہ ما هذا الا تهديد الحكام - یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ پھر بعد اس کے الہام ہوا۔ قد ابتلــى الـمـؤمنون ترجمہ ۔ مومنوں پر ایک ابتلا آیا یعنی بوجہ اس مقدمہ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی ۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ لیعلمـن اللـه المجاهدين منكم وليعلمن الكاذبين ۔ یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تا خدا تمہیں جتلا دے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اس کے مامور کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعوئی بیعت میں جھوٹا ہے۔ سو ایسا ہی ہوا۔ ایک گر وہ تو اس مقدمہ اور دوسرے مقدمہ میں جو مسٹر ڈوئی صاحب کی عدالت میں فیصلہ ہوا صدق دل سے اور کامل ہمدردی سے تڑپتا پھرا اور اُنہوں نے اپنی مالی اور جانی کوششوں میں فرق نہیں رکھا اور دکھ اُٹھا کر اپنی سچائی دکھلائی اور دوسرا گروہ وہ بھی تھا کہ ایک ذرہ ہمدردی میں شریک نہ ہو سکے سو ان کے لئے وہ کھڑ کی بند ہے جو ان صادقوں کے لئے کھولی گئی۔ پھر یہ الہام ہوا کہ:۔ صادق آن باشد که ایام بلا می گذارد با محبت با وفا 1 ۶۲