تریاق القلوب — Page 340
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۴۰ تریاق القلوب مغلوب نہیں ہو سکتے بلکہ ہمیشہ نصرت اُنہی کے لئے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ مومن جو دراصل مومن اور راستی پر ہیں ہمیشہ منصور اور مظفر رہیں گے اور کسی کا فردجال سے نیچا نہیں دیکھیں گے تو پھر کیا سبب ہے کہ اب مومنوں نے نعوذ باللہ ایک کا فر دجال سے نیچا دیکھا یعنی وہ شخص جو اُن کی آنکھ میں کافر اور دجال اور کذاب ہے اس کے مقابل پر ٹھہر نہ سکے۔ دعا ئیں اُسی کی قبول ہوئیں ۔ علم غیب اُسی کو عطا ہوا۔ آسمانی نشان اسی سے ظاہر ہوئے ۔ فہم قرآن اُسی کو دیا گیا۔ خدا کی تائید میں اُسی کے شامل حال ہوئیں اور مومن اُس کے مقابل پر کچھ بھی نہ دکھلا سکے۔ پس یہ کیا بات ہے۔ یہ گنگا الٹی کیوں بہنے لگی ۔ کیا خدا کے وعدوں میں تخلف پیدا ہو گیا کہ مومن ہمیشہ منصور اور مظفر رہیں گے یا وہ وعدے صرف پہلے زمانوں تک محدود تھے اور اب اُن کا عمل درآمد جاتا رہا۔ اور اگر کوئی مولوی یا فقیر یا گدی نشین یہ اعتراض پیش کرے کہ کس نے ہمیں بلایا جو ہم نہیں آئے ۔ اور کس نے پوچھا جو ہم نے جواب نہ دیا۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ ہماری کتابیں اور ہمارے اشتہارات دیکھیں کہ ہم نے صد با اشتہار اس بارے میں شائع کئے اور یہ مجموعہ نشانوں کا بھی ہم نے اس غرض سے اس جگہ لکھا ہے کہ ہر ایک شخص ان نشانوں کو پڑھ کر اپنے دل میں سوچے کہ اب تک کس نے ان نشانوں کے مقابل اپنے نشان دکھلائے اور خدانے کس کی اس قدر تائید کی ؟ کیا ہماری یا اُن کی ؟ اور جبکہ ان نشانوں کی نظیر پر قادر نہ ہو سکے تو کیا یہ شرط انصاف نہ تھی کہ ایسے شخص کو قبول کرتے جس کے مقابلہ سے عاجز آگئے ۔ آسمان و مه و خورشید شهادت دادند تا تو تکذیب از نادانی و غفلت نکنی چوں تر انصرت حق نیست چوا خیار نصیب شرط انصاف نباشد که زوحق دم بزنی