تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 769

تریاق القلوب — Page 338

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۳۸ تریاق القلوب جاتے۔ یہ کس قدر بڑی کرامت ہے کہ مہادیو کی لٹوں میں سے گنگا نکلی اور کرشن جی نے کیا کیا کرشمے دکھلائے ۔ لہذا یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمیشہ سے دنیا میں یہ طبعی خاصہ ہے کہ اکثر افراد بنی آدم کے جھوٹ اور افترا اور مبالغہ کی طرف مائل ہو جایا کرتے ہیں۔ انہی فتنوں کی وجہ سے تو شواہد عدل اور رؤیت کی شہادتوں کی حاجت پڑی۔ پس ظاہر ہے کہ اگر کسی سنی یا شیعہ کے ہاتھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایسے روشن ثبوتوں اور رؤیت کی شہادتوں کے ساتھ جیسا کہ ہم نے اپنے نشان پیش کئے کسی اپنے بزرگ کی کرامتیں ہوتیں تو اتنی مدت تک وہ ہرگز خاموش نہ بیٹھ سکتے ۔ ایک زمانہ ہوا کہ ہم نے بارہا ان لوگوں کو قسمیں دیں کہ اگر آپ لوگوں کے پاس ان نشانوں کی نظیر موجود ہے تو ضرور پیش کیجئے مگر کوئی بھی پیش نہ کر سکا اور ظاہر ہے کہ بغیر ثبوت کے جو کچھ بیان کیا جائے وہ قبول کے لائق نہیں بلکہ ایسے قصے جو ناولوں کی طرح طبیعت خوش کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں کرامت کے نام سے موسوم نہیں ہو سکتے افسوس کہ یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ یہ لوگ دعوئی اور دلیل میں فرق نہیں کر سکتے اور اگر کسی دعوے پر دلیل پوچھی جائے تو ایک اور دعویٰ پیش کر دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ دعوی کس کو کہتے ہیں اور دلیل کس کو ۔ بھلا اگر اس سے پہلے بھی کسی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو آؤ ہمیں بتاؤ ہم سنے کو طیار ہیں کہ آسمان نے ان کی سچائی پر کون سی گواہی دی۔ کیا کبھی ان کے زمانہ میں بھی رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا اور ثبوت دو کہ انہوں نے کون کون نشان دکھلائے اور وہ گواہ پیش کرو جنہوں نے اُس زمانہ میں اُن نشانوں کو دیکھا اور اس بات کی تصدیق کی کہ در حقیقت اُن سے آسمانی نشان ظہور میں آئے جن کو انہوں نے بچشم خود مشاہدہ کیا لیکن بغیر ثبوت کے صرف دعووں کو پیش کرنا