تریاق القلوب — Page 325
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۵ تریاق القلوب بٹالہ نے اُٹھایا تھا بری نہیں ہوا یہ کس قدر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ ماسوا اس کے اگر فرض محال کے طور پر قبول بھی کرلیں کہ ڈسچارج کے معنے بری نہیں ہیں اور جو کچھ انگریزی ڈکشنریوں میں اس لفظ کے معنے بری لکھے ہیں اُنہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ پھر بھی محمد حسین کی یہ سخت بد قسمتی ہے کہ جس مطلب کے لئے اُس نے یہ تمام تانا بانا قانون کی اصل منشاء کو چھوڑ کر بلکہ خدا تعالیٰ کی پاک کلام قرآن شریف کو چھوڑ کر بنایا تھا وہ مطلب تب بھی اُس کو حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس منصوبہ بازی سے اصل مطلب اُس کا یہ تھا کہ تا کسی طرح لوگوں کے دلوں میں یہ جمادے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیونکہ ڈسچارج کئے گئے ہیں نہ بری۔ اس مطلب سے وہ ہر طرح پر نا کام اور نامراد ہی رہا کیونکہ وہ پیشگوئی جو رسالہ حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ میں لکھی گئی ہے اُس میں بریت کا لفظ نہیں ہے بلکہ سلام کا لفظ ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ دشمنوں کے اُس حملہ سے اور اُن کی اُس بد غرض سے جو اس حملہ کی موجب ہوئی محفوظ رکھا جائے گا۔ جیسا کہ صفحہ ۱۲ کی وہ عبارت یہ ہے یاتیک نصرتى انى انا الرحمن ۔ يا ارض ابلعی ماءک غیض الماء وقضى الامر۔ سلام قولا من رب رحيم “۔ یعنی اس مقدمہ میں میری مدد تجھے پہنچے گی اور میں جو رحمان ہوں رحمت کروں گا۔ اے زمین اپنا پانی نگل جا۔ پانی خشک کیا گیا یعنی شکایتوں کا کچھ اثر باقی نہ رہا۔ اور مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اور وہ فیصلہ یہ ہے که سلام قولا من رب رحیم یعنی سلامتی ہوگی اور کوئی ضرر نہیں پہنچے گا ۔ یہ خدا کا فرمودہ ہے جو پروردگار مہربان ہے یعنی یہ پیشگوئی ہرگز خطا نہیں جائے گی کیونکہ خدا کی طرف سے ہے ۔ اب دیکھو اُس جگہ سلام کا لفظ پیشگوئی میں ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ جو مقدمہ اٹھانے سے نقصان رسانی کا ارادہ کیا گیا ہے اور اس پر