تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 769

تریاق القلوب — Page 324

۸۵ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۴ تریاق القلوب لحاظ سے صرف رہا شدہ کہنا سخت ظلم ہے۔ کیا اُس کو کسی نے احسان کے طور پر رہا کیا ؟ وہ تو اپنی ذاتی پاک دامنی کی وجہ سے بے جا حملوں سے محفوظ رہا یہاں تک کہ حملہ کی آگ اُس کو چھو بھی نہ سکی اور وہ تو ایک طرح سے دوسری قسم کے بری ہونے والے سے اپنی اعلیٰ درجہ کی نیک چلنی کی وجہ سے برتر اور اعلیٰ رہا۔ کیونکہ دوسری قسم کے بری پر جو انگریزی میں ایکٹٹ کہلاتا ہے یہ زمانہ آگیا کہ وہ مجرم قرار دیا گیا اور اُس پر فرد قرارداد لگایا گیا اور شاید وہ ایک مدت تک حوالات میں بھی رہا اور شاید اُس کو ہتھکڑی بھی پڑی مگر یہ شخص جو ڈسچارج کیا گیا اس کی نیک چلنی کی چمک نے اُن تمام ذلتوں سے اُس کو محفوظ رکھا۔ لہذا قانون کے وضع کرنے والوں پر یہ تہمت کرنا کہ اُنہوں نے اس قسم کی بریت کو محض رہائی تصور کیا اور کچھ بھی عزت نہ دی ایک قابل شرم بدگمانی ہے۔ ہاں ہم یہ ضرور کہیں گے کہ وہ زبان کے نامکمل ہونے کی وجہ سے یا کسی اور باعث سے اپنی زبان کے لفظ کو جو ڈسچارج ہے واقعی اور صحیح ی ہے ترجمہ کے پیرا یہ میں جس میں حق دار کو اپنا حق پہنچتا تھا ادا نہیں کر سکے۔ اور یہ ایک غلطی جو قلت تدبر سے ظہور میں آئی اور احتمال قوی ہے کہ انگریزی میں صرف ان کو ایسا لفظ ملا جو فقط رہائی کے معنی دیتا تھا۔ سو یہ انگریزی زبان کا قصور ہے جو ان کے آگے ایسا لفظ پیش نہ کرسکی جو ان کے مقصود اور منشاء کو پورے طور پر ادا کر سکتا مگر ہمیں اُن کی منصفانہ طبیعت سے امید ہے کہ جب کبھی انہیں اس غلطی پر اطلاع ہوگی تو اس کی اصلاح ضرور کر دیں گے۔ ہمارے اس تمام ثبوت سے جو ہم نے اس جگہ پیش کیا ہے ۔ ہر ایک منصف اور ایماندار معلوم کرلے گا کہ جو شیخ محمد حسین بٹالوی نے محض جھوٹی شیخی کے اظہار کے لئے میری نسبت شائع کیا ہے کہ گویا میں اس مقدمہ میں کہ جو منشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر