تریاق القلوب — Page 319
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۱۹ تریاق القلوب بِهِ بَرِیا میں ہے یہی منشاء قرآن کا ہے تو کسی عورت پر مثلا زنا کی تہمت لگانا کوئی جرم نہ ہوگا۔ بجز اس صورت کے کہ اُس نے معتمد گواہوں کے ذریعہ سے عدالت میں ثابت کر دیا ہو کہ وہ زانیہ نہیں اور اس سے یہ لازم آئے گا کہ ہزارہا مستور الحال عورتیں جن کی بد چلنی ثابت نہیں حتی کہ نبیوں کی عورتیں اور صحابہ کی عورتیں اور اہلِ بیت میں سے عورتیں تہمت لگانے والوں سے بجز اس صورت کے مخلصی نہ پاسکیں اور نہ بری کہلانے کی مستحق ٹھہر سکیں جب تک کہ عدالتوں میں حاضر ہو کر اپنی عفت کا ثبوت نہ دیں حالانکہ ایسی تمام عورتوں کی نسبت جن کی بدچلنی ثابت نہ ہو۔ خدا تعالیٰ نے بار ثبوت الزام لگانے والوں پر رکھا ہے اور ان کو بری اور مُحصنات کے نام سے پکارا ہے جیسا کہ اسی آیت ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِارْبَعَةِ شُهَدَاءَ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر کسی مخالف کو نبیوں کی عورتوں اور ان کے صحابہ کی عورتوں اور تمام شرفا کی عورتوں کی ہماری مخالفت کے لئے کچھ پرواہ نہ ہو تو پھر ذرہ شرم کر کے اپنی عورتوں کی نسبت ہی کچھ انصاف کرے کہ کیا اگر اُن پر کوئی شخص اُن کی عفت کے مخالف کوئی ایسی تہمت لگاوے جس کا کوئی ثبوت نہیں تو کیا وہ عورتیں آیت يَوْمِ بِهِ بَرِیا کی مصداق ٹھہر کر بری سمجھی جاسکتی ہیں اور ایسا تہمت لگانے والا سزا کے لائق ٹھہرتا ہے یا وہ اس حالت میں بری سمجھی جائیں گی جبکہ وہ اپنی صفائی اور پاک دامنی کے عدالت میں گواہ گذرا نہیں اور جب تک وہ بذریعہ شہادتوں کے اپنی عفت کا عدالت میں ثبوت نہ دیں تب تک جو شخص چاہے ان کی عفت پر حملہ کرے اور ان کو غیر بُری قرار دے کیا آیت موصوفہ بالا میں یعنی آیت يَوْمِ بِهِ بَرِیا میں بری کے لفظ کا یہی منشاء ہے کہ اس میں گناہ کا ثابت نہ ہونا کافی نہیں بلکہ ا النساء :١١٣ النور : ۵