تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 769

تریاق القلوب — Page 317

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۱۷ تریاق القلوب کا لفظ صرف چھوڑنے یا چھوڑے جانے کے معنوں پر اطلاق پاتا ہے اور کوئی زائد امر اس کے مفہوم میں نہیں ۔ پس واضح ہو کہ ڈسچارج کا ترجمہ مقننین کے منشاء کے موافق فارسی میں ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ اس مفہوم کے ادا کرنے کے لئے صرف بری کا لفظ ہے جو عربی ہے۔ عرب کے یہ دو مقولے ہیں کہ انا برئ من ذالک اور انـــا مُبرء من ڈالک ۔ پہلے قول کے یہ معنے ہیں کہ میرے پر کوئی تہمت ثابت نہیں کی گئی اور دوسرے کے یہ معنے ہیں کہ میری صفائی ثابت کی گئی ہے ۔ دیکھو لسان العرب اور تاج العروس اور دوسری لغت عرب کی مبسوط کتا ہیں جن میں بری کے لفظ کے معنے مختلف تصریفات کے پیرا یہ میں کی گئی ہیں اور قرآن شریف میں بھی یہ دونوں تصریفات دو معنوں پر آئی ہیں۔ اول فرمایا ہے ۔ وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةٌ أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَ إِثْمًا مُّبِينًا الجزو نمبر ٥ سورة النساء یعنی جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے اور پھر کسی ایسے شخص پر وہ گناہ لگاوے جس پر وہ گناہ ایک ثابت شدہ امر نہیں تو اُس نے ایک کھلے کھلے بہتان اور گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر لیا ۔ پس اس جگہ خدائے عزوجل نے بری کے لفظ سے اُس شخص کو مراد لیا ہے جس پر کوئی گناہ ثابت نہ ہوا ہو اور اگر کوئی ہمارے اس بیان کی مخالفت کر کے یہ کہے کہ اس جگہ بری کے لفظ سے یہ معنے مراد نہیں ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ ایسے شخص پر گناہ لگاوے جس نے شہادتوں کے ذریعہ سے عدالت میں اپنا بے گناہ ہونا بپایہ ثبوت پہنچا دیا ہو۔ اور گواہوں کے ذریعہ سے اپنا پاک دامن ہونا ثابت کر دیا ہو تو یہ معنے سراسر فاسد اور قرآن شریف کی منشاء سے صریح مخالف اور ضد ہیں کیونکہ اگر یہی معنے اس آیت کے ہیں تو پھر اس صورت میں یہ بڑی خرابی لازم آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص پر تہمت لگانا کوئی گناہ نہ ہو ا النساء :١١٣