تریاق القلوب — Page 316
روحانی خزائن جلد ۱۵ تریاق القلوب ثابت ہو جائے اور فرد قرار داد جرم لگائی جائے اور پھر مجرم اپنی صفائی کا ثبوت دے کر اُس الزام سے رہائی پاوے۔ ان دونوں لفظوں میں قانونی طور پر فرق یہ ہے کہ ڈسچارج وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں جرم ثابت نہ ہو سکے اور ایکیٹ وہ بریت کی قسم ہے کہ جہاں جرم ثابت ہو جانے کے بعد اور فرد قرارداد لکھنے کے بعد آخر میں صفائی ثابت ہو جائے اور عربی میں بریت کا لفظ ان دونوں مفہوموں پر مشتمل ہے جو شخص شہرت سے دور رہے یعنی الزام کا لگنا اس پر ثابت نہ ہو ۔ یا الزام لگنے کے بعد اُس کی صفائی ثابت ہو دونوں حالتوں میں عربی زبان میں اس کا نام بَری ہوتا ہے۔ پس جب ڈسچارج کے لفظ کا ترجمہ عربی میں کیا جائے گا تو بجز یری کے اور کوئی لفظ نہیں جو اس کے ترجمہ میں لکھ سکیں کیونکہ ڈسچارج کے لفظ سے قانون کا منشاء صرف اس قدرنہیں ہے کہ یونہی چھوڑا جائے بلکہ یہ منشاء ہے کہ عدم ثبوت کی حالت میں چھوڑا جائے اور اس منشاء کے ادا کرنے کے لئے صرف بری کا لفظ ہے اور یہ عربی لفظ ہے اور فارسی میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو اس منشاء کو ادا کر سکے۔ رہائی کا لفظ اس منشاء کو ادا نہیں کرتا محض تسامح کے طور پر بول سکتے ہیں ۔ وجہ یہ کہ رہائی کے لفظ کا صرف اس قدر مفہوم ہے کہ کسی کو چھوڑا جائے خواہ چڑیوں کو پنجرہ میں سے چھوڑا جائے مگر واضعان قانون کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ وہ ڈسچارج کے لفظ سے صرف چھوڑ نا مراد لیں اور اس کے ساتھ اور کوئی شرط نہ ہو بلکہ اُن کے نزدیک ڈسچارج کے لفظ میں ضروری طور پر یہ شرط ہے کہ جس شخص کو ڈسچارج کیا جائے اُس پر الزام ثابت نہ ہو یا اُس الزام کا کافی ثبوت نہ ہو ۔ اور جبکہ ڈسچارج کے لفظ کے ساتھ مقننین کے نزدیک ایک شرط بھی ہے جس کا ہمیشہ فیصلوں میں ذکر بھی ہوتا ہے تو کسی صورت میں اس کا رہائی ترجمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ رہائی