تریاق القلوب — Page 298
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۸ تریاق القلوب کا فر ٹھہرایا اور تکفیر کا فتویٰ تجھے پر لکھا اور اس نے اس تکفیر کے منصوبہ کو دلوں میں جمانے کے لئے ایک ہامان کو اپنا پیشرو بنا کر اس کو کہا کہ اس تکفیر کے کاروبار کو تو اپنی مہر سے پختہ کر دے تا اس شخص کی حقیقت کھل جائے کیونکہ میں تو اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں سو اس ہامان نے ایسا ہی کیا اور سب سے پہلے میرے کفر پر مہر لگائی ۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا اس کو منا سب نہ تھا کہ بجز خائف اور ترساں ہونے کے اس کام میں کچھ بھی دخل دیتا۔ اور جو رنج تجھ کو پہنچے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس فتویٰ تکفیر کے وقت ایک فتنہ برپا ہوگا یعنی بہت سے لوگ در پنے ایڈا ہو جائیں گے سو اس وقت صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ اور یا درکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تا وہ تجھ سے زیادہ سے زیادہ محبت کرے میہ اس کی طرف سے ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور یہ ایسی عطا ہے کہ پھر واپس نہیں لی جاوے گی۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسے صفائی سے پوری ہوئی۔ شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعة السنة نے یہ فتنہ اُٹھایا اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتوی کی عبارت کو اپنی طرف منسوب کر کے اور اپنی مہر لگا کر اور ہمیں مع ہماری تمام جماعت کے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ٹھہرا کر محمد حسین بٹالوی کے منصوبہ کو تمام ملک میں بھڑ کا دیا اور قریباً اس فتنہ تکفیر سے دس سال پہلے یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی تھی ۔ اب ذرہ سوچو کہ کیا یہ کسی انسان کا اختیار ہے کہ ایسا بڑا شور و غوغا جو تمام پنجاب اور ہندوستان میں برپا کیا گیا اس کے ظہور سے دس برس پہلے وہ خبر دے دی ہر ایک طالب صادق کو چاہیے کہ براہین احمدیہ کا صفحہ ۱۵۱۰ اور ۵۱۱ میں خوب نظر غور کرے اور پھر اسی پیشگوئی کے ساتھ اسی صفحہ میں پانچ چار سطر او پر یہ الہام ہے:۔ ۷۵