تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 769

تریاق القلوب — Page 294

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹۴ تریاق القلوب ایسے سخت مخالف گواہ ٹھہرائے گئے ۔ اب کسی منصف اور پاک دل اور باحیا انسان کا دل اور کانشنس فتوی دے گا کہ یہ نشان صحیح نہیں ہے اور اگر اب بھی شک ہو تو ایسے شخص کو حضرت احدیت جل اسمہ کی قسم ہے کہ ان کو بطرز مذکورہ بالا قسمیں دے کر دریافت کرے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے اور سوچے کہ کیا اس قدر عظیم الشان نشانوں کا ایک ذخیرہ کذاب کی تائید میں خدا تعالیٰ دکھا سکتا ہے؟ ۷۳ ۵۳ ایک دفعہ موضع کنجراں ضلع گورداسپورہ میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا ۔ اور میرے ساتھ شیخ حامد علی تھا۔ جب صبح کو ہم نے جانے کا قصد کیا تو مجھے الہام ہوا کہ اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہوگا ۔ چنانچہ راہ میں شیخ حامد علی کی ایک نئی چادر گم ہوگئی اور میرا ایک رومال گم ہو گیا اور میں خیال کرتا ہوں کہ اس وقت حامد علی کے پاس وہی ایک چادر تھی جس سے اُس کو بہت رنج پہنچا اس نشان کا گواہ شیخ حامد علی ہے ۔ جس کو شک ہو وہ اس سے حلفاً دریافت کرے مگر حلف حسب نمونہ نمبر ۲ ہوگی ۔ اور شیخ حامد علی موضع حصہ غلام نبی ضلع و تحصیل گورداسپورہ میں رہتا ہے۔ ۵۴ ایک مرتبہ اتفاقاً مجھے مے روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی ضرورت کی حالتیں آجاتی ہیں ایسا ہی یہ حالت مجھے پیش آگئی کہ اس وقت کچھ موجود نہ تھا ۔ سو میں صبح کو سیر کو گیا اور اس ضرورت کے خیال نے مجھے یہ جوش دیا کہ میں اس جنگل میں دعا کروں ۔ چنانچہ میں نے ایک پوشیدہ گوشہ میں جا کر اُس نہر کے کنارے پر دعا کی جو بٹالہ کی طرف قادیان سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے ۔ جب میں دعا کر چکا تب فی الفور