تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 769

تریاق القلوب — Page 289

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۱ ۲۸۹ تریاق القلوب ایک بھی موجود نہ تھا جہا۔ میاں عبد اللہ سنوری جو غوث گڑھ علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہے ایک مرتبہ اے کے اس کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے اس نے ہر طرح کی تدبیریں بھی کیں اور بعض وجوہ کے پیدا ہونے سے اس کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہو گئی اور پھر میری طرف بھی التجا کی کہ تا اس کے حق میں دعا کی جائے ۔ بعض نادان دل کے اندھے یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ یکم فروری ۱۸۸۶ء | کی پیشگوئی میں جو ایک پسر موعود کا وعدہ تھا وہ وعدہ جیسا کہ ظاہر کیا گیا تھا پورا نہیں ہوا کیونکہ پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور اس کے بعد جولڑ کا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا تھا وہ سولہ مہینے کا ہو کر فوت ہو گیا ۔ حالانکہ کے اگست ۷ ۱۸۸ء کے اشتہار میں اے کے اسی کو با برکت موعود ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اسی قسم کی خباثت ہے جو یہودیوں کے خمیر میں تھی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لبوں سے یہ نکلا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسے بھی لوگ مسلمانوں میں سے ہوں گے کہ جو یہودیوں کی صفت اختیار کر لیں گے اور ان کا کام افترا اور جعلسازی ہوگی ۔ بھلا آؤ اگر بچے ہو تو پہلے اس کا فیصلہ کر لو کہ ہم نے کب اور کس وقت اور کس اشتہار میں یہ شائع کیا تھا کہ اس بیوی سے پہلے لڑکا ہی ہو گا اور وہ لڑکا وہی بابرکت موعود ہوگا جس کا یکم فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں وعدہ دیا گیا تھا اشتہار مذکور میں تو یہ لفظ بھی نہیں ہیں کہ وہ با برکت موعود ضرور پہلا ہی لڑکا ہو گا بلکہ اس کی صفت میں اشتہار مذکور میں یہ لکھا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا جس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ چوتھا لڑکا ہوگا یا چوتھا بچہ ہو گا مگر پہلے بشیر کے وقت کوئی تین موجود نہ تھے جن کو وہ چار کرتا ۔ ہاں ہم نے اپنے اجتہاد سے ظنی طور پر یہ خیال ضرور کیا تھا کہ شاید یہی لڑکا مبارک موعود ہو ۔ لیکن اگر اس نادان معترض کے اعتراض کی بنیا دصرف ہمارا ہی خیال ہے جو الہام کے سرچشمہ سے نہیں بلکہ صرف