تریاق القلوب — Page 281
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۸۱ تریاق القلوب ہوں کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال چلن کے ساتھ بھیجے تا کہ کوئی دل ان کی اطاعت سے کراہت نہ کرے۔ یہی وجہ ہے جو تمام نبی علیہم السلام اعلیٰ قوم اور خاندان میں سے آتے رہے ہیں۔ اسی حکمت اور مصلحت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی نسبت ان دونوں خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ یعنی تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو خاندان اور قبیلہ۔ L☆ اور قوم کے لحاظ سے تمام دنیا سے بڑھ کر ہے اور سب سے زیادہ پاک اور بزرگ خاندان رکھتا ہے۔ اور ایک اور جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَرْبكَ حِينَ تَقُوْمُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِينَ " یعنی خدا پر توکل کر جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔ وہی خدا جو تجھے دیکھتا ہے جب تو دعا اور دعوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے ۔ وہی خدا جو تجھے اس وقت دیکھتا تھا کہ جب تو تخم کے طور پر راستبازوں کی پشتوں میں چلا آتا تھا یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ معصومہ کے (۶۸) پیٹ میں پڑا۔ اور ان کے سوا اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں ہمارے بزرگ اور مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علو خاندان اور شرافت قوم اور بزرگ قبیلہ کا ذکر ہے ۔ اور دوسری خوبی جو شرط کے طور پر مامورین کے لئے ضروری ہے وہ نیک چال چلن ا انفس کے لفظ میں ایک قراءت زبر کے ساتھ ہے یعنی حرف فا کی فتح کے ساتھ اور اسی قراءت کو ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں اور دوسری قراءت بھی یعنی حرف فا کے پیش کے ساتھ بھی اس کے ہم معنی ہے کیونکہ خدا قریش کو مخاطب کرتا ہے کہ تم جو ایک بڑے خاندان میں سے ہو یہ رسول بھی تو تمہیں میں سے ہے یعنی عالی خاندان ہے۔ منہ ل التوبة : ۱۲۸ ۲ الشعراء : ۲۱۸ تا ۲۲۰