تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 769

تریاق القلوب — Page 270

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۷۰ تریاق القلوب پاس آتا۔ لیکن اس پیشگوئی کے بعد ہزار ہا کوسوں سے لوگ میرے پاس آئے ۔ پشاور اور بمبئی اور حیدرآباد اور کلکتہ اور مدراس اور بخارا اور حدود کابل وغیرہ ممالک سے بصدق دل میرے پاس پہنچے اور ہر ایک نے اپنی اپنی توفیق اور طاقت کے موافق تحائف اور مال پیش کئے ۔ مجھے کچھ ضرور نہیں کہ اس کا زیادہ ثبوت دوں کیونکہ میں گمان کرتا ہوں کہ مخالفوں میں سے ایسا بے حیا کوئی بھی نہ ہو گا کہ ان بدیہی واقعات کہ حیا ہوگا سے انکار کرے۔ ایک اُن میں سے جو دور دور سے آتے ہیں اخویم حتى فى الله سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی ہیں جو ہر سال مدر اس سے قصد کر کے قادیاں میں پہنچتے ہیں اور بدل و جان ہمارے سلسلہ کی امداد کے لئے سرگرم ہیں۔ اور اگر چہ ان کی خدمات اُن کے صدق اور اعتقاد کی طرح بہت بڑھی ہوئی ہیں اور ضرورت کے وقتوں پر ہزا رہا روپیہ کی مدد اُن سے پہنچتی ہے لیکن ایک فرض لازم کی طرح ایک سٹور و پیہ ماہواری اس سلسلہ کی مدد کے لئے انہوں نے مقرر کر رکھا ہے جو بغیر ناغہ ہمیشہ ماہ بماہ پہنچتا ہے۔ ایسا ہی اپنی اپنی طاقت اور استطاعت کے موافق اور دور کے دوست بھی ہیں جو ہمیشہ قادیاں میں آتے اور مالی خدمات بجالاتے ہیں۔ اب دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صاف اور واضح ہے۔ ایسا ہی اس کی جز دوسری پیشگوئی کہ دور دور سے خدا کی مدد تجھے آئے گی اس کی تصدیق ڈاکخانہ کے رجسٹروں سے ہو سکتی ہے کہ کس کس ضلع دور و دراز سے لوگ روپیہ بھیجتے ہیں۔ کیا آج سے بیس برس پہلے کسی کے گمان میں تھا کہ اس قدر دور دراز ملکوں سے رو پید اور دوسرے تحائف آئیں گے۔ اگر یہ انسان کا کام تھا تو کسی اور کو بھی چاہیے تھا که ایسی رائے ظاہر کرتا۔ پھر ایک فقرہ ان پیشگوئیوں میں سے یہ ہے کہ خدا ہر ایک قسم کی نعمت تجھ پر پوری کرے گا۔ اب بتلاؤ کہ اس طریق پر جو خدا تعالیٰ کا نبیوں سے معاملہ ہے کونسی نعمت باقی رہی ہے جو خدا نے مجھ پر پوری نہیں کی ۔ کیا خدا کا یہ عظیم الشان