تریاق القلوب — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۶۴ تریاق القلوب ہوئی ہیں اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سرنالی کے کنارے پر ہے اس غرض سے کہ تا ذبح کرنے کے وقت اُن کا خون نالی میں پڑے اور باقی حصہ ان کے وجود کانالی سے باہر ہے اور نالی شرق غر با واقع ہے اور بھیڑوں کے سر نالی پر جنوب کی طرف سے رکھے گئے ہیں اور ہر ایک بھیٹر پر ایک قصاب بیٹھا ہے اور اُن تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو ہر ایک بھیٹر کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اور میں اُس میدان میں شمالی طرف پھر رہا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے تب میں اُن کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُم لے یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اُس کے حکموں کو نہ سنو ۔ اور میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت ہو گئی ۔ گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے۔ تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیٹروں پر چھر یہیں پھیر دیں اور چھریوں کے لگنے سے بھیڑوں نے ایک دردناک طور پر تڑپنا شروع کیا۔ تب ان فرشتوں نے سختی سے اُن بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں اور کہا کہ تم چیز کیا ہو گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ ایک سخت و با ہوگی اور اس سے بہت لوگ اپنی شامت اعمال سے مریں گے اور میں نے یہ خواب بہتوں کو سنادی جن میں سے اکثر لوگ اب تک زندہ ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں ۔ پھر ایسا ہی ظہور میں آیا اور پنجاب اور ہندوستان اور خاص کر امرتسر اور لاہور میں اس قدر ہیضہ پھوٹا کہ لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوئیں اور اس قدرموت کا بازار گرم ہوا کہ مُردوں کو گاڑیوں پر لاد کر لے جاتے تھے اور مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا مشکل ہو گیا۔ الفرقان : ۷۸