تریاق القلوب — Page 263
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۴ ۴۵ ۲۶۳ تریاق القلوب آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ ایک پیشگوئی عظیم الشان ہے اور اُن لوگوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑیں گے اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیاں میں آکر بود و باش کریں گے۔ اور یہ پیشگوئی شیخ حامد علی اور کئی اور دوستوں کو قبل از وقت بتلائی گئی تھی اور وہ حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے دوستوں میں سے ایک شخص نجف علی نام قادیاں میں میرے پاس آیا اور اس کے ہمراہ مُحبی مرزا خدا بخش صاحب بھی ساتھ آئے۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ عصر کی نماز کے وقت ہم تینوں یعنی میں اور مرزا خدا بخش صاحب اور میاں نجف علی دوست مولوی محمد حسین ۔ قادیاں کی شمالی طرف سیر کرنے کو گئے اور آتے وقت جیسا کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا میں نے میاں نجف علی صاحب کو کہا کہ میں نے کشفی طور پر ایسا دیکھا ہے کہ تم نے کچھ باتیں مخالفت اور نفاق کی میری نسبت کی ہیں۔ چنانچہ اس نے رو بروئے مرزا خدا بخش صاحب کے اس بات کا اقرار کر لیا کہ ایسی باتیں ضرور اس کی زبان پر جاری ہوئی تھیں ۔ سو اس امر کے گواہ مرزا خدا بخش صاحب ہیں جن کے روبرو اُس نے اقرار کیا۔ اور مرزا خدا بخش بفضلہ تعالیٰ اب تک زندہ موجود اور مالیر کوٹلہ میں ہیں۔ اور وہ حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ حقیقت میں راست اور صحیح ہے۔ عرصہ قریباً پچیس برس کا گذر گیا ہے کہ مجھے خواب میں دِکھلایا گیا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے کہ جو کئی کوس تک چلی جاتی ہے اور اُس نالی پر ہزار ہا بھیٹر میں لٹائی