تریاق القلوب — Page 237
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۳۷ تریاق القلوب نہایت پلید معنے رکھتا ہے اور اس لفظ کے ایسے خبیث معنے ہیں کہ بجز شیطان کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عربی اور عبرانی کی زبان میں ملعون اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے رڈ کیا جائے ۔ اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے رحمت الہی سے رڈ کیا گیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں توریت سے قرآن شریف تک کسی ایسے شخص کی نسبت ملعون ہونے کا لفظ نہیں بولا گیا جس نے انجام کار خدا کی رحمت اور فضل سے حصہ لیا ہو۔ بلکہ ہمیشہ سے یہ ملعون اور لعنتی کا لفظ انہی ازلی بدبختوں پر اطلاق پاتا رہا ہے جو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت اور نجات اور نظر محبت سے بے نصیب کئے گئے اور خدا کے لطف اور مہربانی اور فضل سے ابدی طور پر دور اور مہجور ہو گئے اور ان کا رشتہ دائمی طور پر خدا تعالیٰ سے کاٹ دیا گیا اور اُس جہنم کا خلود اُن کے لئے قرار پایا جو خدا تعالیٰ کے غضب کا جہنم ہے اور خدا تعالی کی رحمت میں داخل ہونے کی امید نہ رہی ۔ اور نبیوں کے منہ سے بھی یہ لفظ کبھی ایسے اشخاص کی نسبت اطلاق نہیں پایا جو کسی وقت خدا کی ہدایت اور فضل اور رحم سے حصہ لینے والے تھے۔ اس لئے یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جوشخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اُس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو ۔ وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں یہی اشارہ ہے۔ مَلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا تُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِیلاً یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یعنتی ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رو کئے گئے اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پاؤ قتل کر دو۔ پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ لعنتی ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی الاحزاب :٢٢: