تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 769

تریاق القلوب — Page 211

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۸ ۲۱۱ تریاق القلوب بھائی کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اُن کی طرف چلے گئے ۔ اور ان کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ اس کی تعبیر یہ تھی کہ وہ فوت ہو جائیں گے۔ اس اثنا میں ان کی بیماری بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ مُشت استخوان رہ گئے ۔ چونکہ میں اُن سے محبت رکھتا تھا۔ مجھے اُن کی حالت کی نسبت سخت قلق ہوا تب میں نے اُن کی شفا کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی اور اس توجہ سے میرے تین مقصد تھے ۔ اوّل میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایسی حالت میں میری دعا جناب الہی میں قبول ہوتی ہے۔ یا نہیں (۲) دوسرے یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا خدا کے قانون قدرت میں ہے کہ ایسے سخت بیمار کو بھی اچھا کر دے۔(۳) تیسری یہ کہ کیا ایسی منذر خواب جوان کی موت پر دلالت کرتی تھی رڈ ہوسکتی ہے یا نہیں۔ سو جب میں دعا میں (۳۹) مشغول ہوا۔ تو تھوڑے ہی دن ابھی دعا کرتے گزرے تھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا بھائی مرحوم پورے تندرست کی طرح بغیر سہارے کسی اور چیز کے اپنے مکان میں چل رہا ہے اور اسی بارے میں ایک الہام بھی تھا جس کے الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ غرض اس خواب اور الہام کے مطابق جو میری دعا کے قبول ہونے پر دلالت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا بخشی ۔ اور اس کے بعد پندرہ برس تک پوری تندرستی کے ساتھ وہ زندہ رہے اور پھر قضاء الہی سے فوت ہو گئے ۔ میں نے اس الہام اور اس خواب کو بہت سے لوگوں کے پاس بیان کیا تھا جن میں سے بعض اب تک زندہ ہیں اور حلفا میرے بیان کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ لیکن حلف اسی قسم کی ہوگی جس کا نمونہ نمبر دو میں لکھا گیا۔ پندرہ برس کے بعد جب میرے بھائی کی وفات کا وقت نزدیک آیا۔ تو میں امرتسر تھا مجھے خواب میں دکھلا یا گیا کہ اب قطعی طور پر ان کی زندگی کا پیالہ پر ہو چکا اور بہت جلد فوت ہونے والے ہیں ۔ میں نے وہ خواب حکیم محمد شریف کو جو امرتسر میں ایک حکیم تھے سنائی اور پھر اپنے بھائی کو خط لکھا کہ آپ امور آخرت کی طرف