تریاق القلوب — Page 193
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۹۳ تریاق القلوب ۲ ☆ ان کی خدمت میں اور اُن کے بھائی صاحب کی خدمت میں بھیجے گئے تھے کیا اور انجام کار ایسا ہی ہوا جیسا کہ کہا گیا تھا۔ نواب صاحب موصوف خود حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ سچا ہے۔ لیکن چونکہ میں جانتا ہوں کہ انسان بعض مصالح کے سبب سے کبھی کبھی سچی گواہی کے ادا کرنے پر دلیری نہیں کر سکتا۔ لہذا میں اُن کی خدمت میں اور سب گواہوں کی خدمت میں بادب التماس کرتا ہوں کہ اگر وہ ان پیشگوئیوں کے علم سے جن میں ان کو گواہ بنایا گیا ہے انکار کریں تو اپنے عزیز فرزندوں کے نام پر خدا تعالیٰ کی قسم کھا لیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی ہے۔ اور قبل اس کے کہ نواب صاحب میری گواہی دیں ۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ تمام واقعہ حق ہے ۔ ولعنة الله علی الکاذبین اور یہ پیشگوئی آج سے بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہو کر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکی ہے۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۵۲۔ ایک آریہ شرمیت نام قوم کھتری جس کا نمبر اوّل میں ذکر آیا ہے جو کبھی کبھی میرے پاس آتا تھا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا منکر اور سخت معاند اسلام تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ناگہاں اس کا بھائی بشمبر داس نام ایک فوجداری الزام کے نیچے آکر ایک برس کی قید کا سزا یاب ہو گیا اور اُس کے ہمراہ ایک اور بھی قید ہوا جس کا نام خوشحال تھا اور اُس کو ڈیڑھ سال کی سزا ہوئی ۔ اس مصیبت کے وقت شرمیت نے مجھ سے اپنے بھائی بشمبر داس کی نسبت دعا چاہی اور یہ بھی کہا کہ اس سے میں امتحان کوئی عقلمند اس بات کو مان نہیں سکتا کہ ایک شہرت یافتہ کتاب کی پیشگوئی جس کو بیس برس گزر چکے اگر وہ خلاف واقعہ اور افترا ہو تو اتنی مدت تک وہ شخص وہ شخص خاموش رہ سکے جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے۔ بالخصوص اس حالت میں کہ جب کہ بلا توقف وہ کتاب اس کو دے دی گئی ہو۔ منہ