تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 769

تریاق القلوب — Page 166

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۶ تریاق القلوب کا سر الصلیب ہوا اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جبکہ چودھویں صدی کے مجدد کی یہ خدمت ہوئی کہ وہ صلیب کو شکست دے۔ تو اس سے یہ فیصلہ ہوا کہ چودھویں صدی کا مجد د مسیح موعود ہونا چاہیے کیونکہ یہی منصب مسیح موعود کا ہے۔ اس لئے چودھویں صدی کا مجد دحق رکھتا ہے کہ اس کو مسیح موعود کہا جائے کیونکہ وہ اس زمانہ کا مجدد ہے اور اس زمانہ میں مجدد کی خاص خدمت کسر شوکت صلیب ہے اور خدا نے میرے وقت میں آسمان سے کسر شوکت عقائد صلیبیہ کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ ہر ایک عظمند ان اسباب پر نظر غور ڈال کر سمجھ سکتا ہے جو صلیبی مذہب کا صفحہ دنیا سے معدوم ہونا جس کا حدیثوں میں ذکر ہے ۔ بجز اس صورت کے کسی طرح ممکن نہیں کیونکہ عیسائی مذہب کو گرانے کے لئے جو صورتیں ذہن میں آسکتی ہیں وہ صرف تین ہیں (۱) اول یہ کہ تلوار سے اور لڑائیوں سے اور جبر سے عیسائیوں کو مسلمان کیا جائے جیسا کہ عام مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ اُن کا فرضی مسیح موعود اور مہدی معہود یہی کام دنیا میں آکر کرے گا اور اس میں صرف اسی قدر لیاقت ہوگی کہ خونریزی اور جبر سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہے گا لیکن جس قدر اس کارروائی میں فساد ہیں حاجت بیان نہیں ۔ ایک شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہ دلیل کافی ہوسکتی ہے کہ وہ لوگوں کو جبر سے اپنے دین میں داخل کرنا چا ہے۔ لہذا یہ طریق اشاعت دین کا ہرگز درست نہیں ہے اور اس طریق کے امیدوار اور اس کے انتظار کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو درندوں کی صفات صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں مسیح موعود کا نام کــاســر الصليب رکھا ہے اور در حقیقت بچے مسیح موعود کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی علامت تھہرائی ہے کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود ایسے زمانہ میں آئے گا جبکہ ہر طرف سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے کہ جن کی پرزور تا شیروں سے صلیبی مذہب عقلمندوں کے دلوں میں سے گرتا جائے گا۔ چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے مگر افسوس کہ ہمارے مخالف مولویوں نے اس جگہ بھی کسر صلیب سے جہاد مراد لے لیا ہے۔منہ